حیاتِ خالد — Page 738
حیات خالد 727 گلدسته سیه اور تبلیغ کی آزادی حاصل تھی۔حضرت مولوی صاحب مرحوم کی تقاریر میں ایک خاص قسم کا رعب ، جذبہ اور کشش تھی کہ سامعین پر محویت طاری ہو جاتی اور مخالفین بھی ان کے علم و دانش کا سکہ مانتے تھے۔مکرم چوہدری عبدالکریم خان صاحب شاہد کا تھگرا می ربوہ نے لکھا: - آپ کا انداز بیان بڑا شستہ، دل کو لبھانے والا اور بالکل منفر درنگ کا تھا۔نہایت متانت و وقار کے ساتھ معرفت سے لبریز تقریر فرماتے۔بچے تلے الفاظ کی خوب آمد ہوتی۔ہر لفظ با موقع اور اپنے محل پر چسپاں اور خوبصورت نظر آتا۔طبعی طور پر زبر دست روانی تھی۔مضمون میں ٹھیک ٹھیک ترتیب و رابط برقرار رہتا۔تمام کڑیاں باہم ملتی چلی جاتی تھیں۔تسلسل ٹو فنا نہیں تھا۔کوئی الجھاؤ نہیں تھا۔ہر پہلو کو شرح وبسط کے ساتھ مدلل بیان کرتے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں قادر الکلام اور فصیح البیان بنایا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی تقریر اعلی علمی طبقے میں بہت زیادہ پسند کی جاتی تھی۔سید نا حضرت نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے "إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا كہ يقينا بعض تقریریں تو جادو ہوتی ہیں۔محترم مولانا ابو العطاء صاحب کی تقریر حضور ﷺ کے اس مبارک فرمان کی عین مصداق تھی۔روحانیت سے معمور پر تاثیر اور دلنشیں ہوتی۔چہرہ جگمگ جگمگ کرتا تھا۔یوں محسوس ہوا کرتا تھا کہ خوشنما و خوشبودار پھول جھڑ رہے ہیں۔سامعین ہمہ تن گوش ہوتے اور ان پر وجد و سرور کی کیفیت طاری ہو جاتی۔مرحوم و مغفور نے بھی دینی علوم کے ماہر مسیح محمدی علیہ السلام سے فیض یاب بزرگ شخصیات سے اکتساب علم کیا اور پھر اللہ تعالی نے انہیں بھی اپنے وقت پر ایک ماہر (الفضل ۵/ جون ۱۹۷۹ء) استاذ اور نابغہ روزگار عالم دین بنا دیا۔مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر لکھتے ہیں :- "آپ کی تقریر کی ایک بڑی خوبی یہ ہوتی تھی کہ وقت کے اندراند رختم کرتے اور سارے مضمون کو ایسے عمدہ پیرا یہ میں جامع و مانع رنگ میں وقت کے اندر بیان فرماتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔مسجد مبارک میں قرآن مجید کا درس دیتے تو ہر رکوع پر پورا پورا وقت صرف کرتے اور جب آخری رکوع ختم ہوتا تو آپ کے درس کا وقت عین پورا ہو جاتا۔وو محترم مولانا صوفی محمد الحق صاحب نے لکھا: - قادیان اور ربوہ کے جلسہ ہائے سالانہ پر ہر سال آپ کی تقریر ہوا کرتی جس کی روانی قابل دید و شنید تھی۔( الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۷۷ء صفحه ۴ )