حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 736 of 923

حیاتِ خالد — Page 736

حیات خالد 725 گلدستۂ سیرت تصویریں تھیں۔جو اپنے عمل اور علم سے لوگوں کے دلوں میں انقلاب لے آئے۔اللہ تعالٰی حضرت مولانا کو اپنی محبت کی چادر میں لیٹے رکھے اور اس جہان میں آپ کے درجات کو بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔آمین محترم مولانا عبد الباسط صاحب شاہد جو بلا دافریقہ میں کئی سال خطابت پر ایک وقیع تبصرہ خدمات دین بجالا پچکے ہیںاپنے استاذ محترم کے بارے میں رقم فرماتے ہیں:۔21 خدا تعالیٰ نے آپ کو ذاتی وجاہت اور سلاست و فصاحت سے نوازا تھا۔اُردو اور عربی میں یکساں بے تکلفی سے نہایت شستہ اور بچے تلے الفاظ میں تقریر کرتے تھے۔آپ کی ابتدائی دور کی تقریر کی خوبی و عمدگی کے متعلق ایک بہت ہی پیارا اور حمد و تبصر ہ سلسلہ کے نامور ادیب و نقاد حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے فرمایا ( اس خاکسار کو یہ تبصرہ حضرت حافظ صاحب کی زبانی خود سننے کا اتفاق ہوا۔فرمایا کہ ایک دفعہ میں مہمان خانہ قادیان میں ٹھہرا ہوا تھا۔شام کے وقت تیار ہو کر باہر جانے لگا تو حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا " حافظ صاحب کدھر کا ارادہ ہے"۔میں نے بتایا کہ میں مسجد اقصیٰ میں ہونے والی تقاریر سننے جا رہا ہوں۔اس پر حضرت میر صاحب نے فرمایا ” بچوں کی تقاریر سن کر آپ کو کیا فائدہ ہوگا ؟ حضرت حافظ نے فرمایا کہ میں نے جواب دیا کہ میر صاحب ! میں مولوی اللہ دتا کی تقریر سننے جا رہا ہوں اسے قدرت نے یہ حسن عطا فرمایا ہے کہ اگر تقریر کے دوران اس کے منہ سے غلطی سے بھی کوئی غلط لفظ نکل جائے تو وہ اپنے فقرہ کو اس خوبصورتی سے تبدیل کرتا ہے کہ وہ نقص دور ہو جاتا ہے اور سننے والے کو غلطی کا پتہ بھی نہیں چل سکتا۔جو لوگ حضرت حافظ صاحب کی شان تنقید کو جانتے ہیں وہ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ ایک نو جوان طالب علم کی قوت بیان کے متعلق یہ تبصرہ کس قیمت اور عظمت کا حامل ہے۔حضرت مولانا تقریر اور عام گفتگو میں بھی الفاظ کی صحت کی طرف خاص توجہ دیتے تھے۔زائد الفاظ اور تکلفات سے اجتناب کی تلقین فرماتے تھے۔خود بتایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجلس مشاورت میں کوئی مسئلہ زیر بحث تھا۔کافی وقت گذر چکا تھا اور حضرت مصلح موعود اس کے متعلق رائے شماری کروانا چاہتے تھے۔تو مولانا نے ایک ضروری امر کی طرف توجہ دلانا چاہی۔حضور نے پہلے تو انکار فرمایا پھر