حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 653 of 923

حیاتِ خالد — Page 653

حیات خالد 648 آخری ایام تعزیتی خطوط حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی اچانک اور المناک وفات پر متعدد اندرون پاکستان سے بھائی بہنوں اور عزیزوں نے پاکستان بھر سے اپنے دلی جذبات کا کرتے ہوئے خطوط اور بذریعہ تار حضرت مولانا کی بیگم صاحبہ محترمہ سے تعزیت کی۔ایک بہت ہی مختصر انتخاب درج ذیل ہے۔حضرت مولانا کے فرزند اکبر مکرم عطاء الرحمن صاحب طاہر کراچی پاکستان میں موجود ہونے کی بناء پر نماز جنازہ و تدفین میں شریک ہو سکے۔بقیہ تینوں بیٹے بیرون پاکستان جماعتی خدمات پر مامور تھے۔مکرم طاہر صاحب نے اپنی والدہ ماجدہ کو لکھا کہ جاپان سے عزیزم عطاء الحجیب (امیر دمشنری انچارج) کا خط ملا جسے پڑھ کر اشکبار ہو گیا کہ دیار غیر میں میرے بھائی کو دلاسا دینے والا بھی کوئی نہیں۔نیز لکھا که عزیزم عطاء الکریم شاہد (امیر و مبلغ انچارج لائبیریا) کے خطوط ملنے پر اسے تسلی کا جواب دے رہا ہوں۔اپنے چھوٹے بھائی کو کیسے سمجھاؤں؟ خود میرا قلم نہیں چلتا بس فرض نباہ رہا ہوں۔اسی طرح عزیزم عطاء الرحیم ( ٹیچر احمد یہ سکول فری ٹاؤن ) کا سیرالیون سے خط بھی نمناک کر گیا۔غریب الوطنی بھی کیا چیز ہے کہ ہر کوئی مجبور ہو جاتا ہے۔یہ سوچ کر کہ اب ابا جان اس دنیا میں نہیں آنکھیں بار بار نمناک ہو جاتی ہیں۔اکثر نماز میں ان کے لئے درازی عمر اور صحت کی بحالی کیلئے دعا نکل جاتی ہے۔پھر فورا خیال آتا ہے کہ اب تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا ہے چنانچہ ان کی بلندی درجات کیلئے دعا کرنے لگ جاتا ہوں۔آپ نے مزید لکھا کہ آپ جنازہ سے ذرا ہی پہلے ربوہ پہنچ سکے تھے۔احباب نے محبت کے جذبہ سے قابل قدر تعزیت کی اور سب عزیزوں سے جس ہمدردی اور غمخواری کا سلوک کیا وہ نا قابل فراموش ہے۔محترمہ بشری بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا مبارک احمد صاحب نے حیدر آباد (سندھ) سے لکھا کہ : ہمارا حضرت مولانا سے روحانی رشتہ اتنا گہرا تھا جس کا بیان ممکن نہیں۔آپ علم کا ایک وسیع سمندر تھے اور پیاسی روحوں کو آخر دم تک سیراب کرتے رہے۔آہ ! حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کے آخری "خالد" بھی سوئے خلد روانہ ہو گئے۔حضرت مولانا کے فرزندان اور بیٹیاں ہی شفقت پدری سے محروم نہیں ہوئے بلکہ آپ کے بے شمار روحانی فرزند بھی آپ کی یاد میں بے قراری سے تڑپ رہے 0