حیاتِ خالد — Page 64
حیات خالد 68 اساتذہ کرام ہے۔حضرت مولوی عبد الرحمان صاحب جٹ ( بعد میں امیر جماعت احمدیہ قادیان) اسی طرح زائد وقت میں عربی پڑھایا کرتے تھے۔ان دنوں نصاب زیادہ ہوتا تھا عام طور پر سال کے آخری حصہ میں قریباً سب اساتذہ ہی رات اور دن کے کسی حصہ میں زائد وقت دے کر نصاب ختم کراتے تھے۔بایں ہمہ بعض اساتذہ کا کورس پورا نہیں ہوا کرتا تھا۔وہ اس محنت کے ساتھ ساتھ طلبہ کیلئے درد دل سے دعا ئیں بھی کیا کرتے تھے۔اس طریق کار سے طلبہ کے دلوں سے بھی اساتذہ کیلئے دعائیں نکلا کرتی تھیں اور ہم تو آج تک ان نیک اساتذہ کیلئے دعا گو ہیں اور انہیں ہمیشہ یادرکھیں گے۔میں یہ ذکر کر رہا ہوں کہ ہمارے اساتذہ اپنے طلبہ کے نہایت خیر خواہ تھے۔طلبہ کے ساتھ پدرانہ سلوک کا یہ انداز تھا کہ وہ انہیں اپنی ہر خوشی میں شریک کرتے تھے۔کسی استاد کے ہاں بچہ پیدا ہو یا کوئی اور خوشی کی تقریب ہو تو طلبہ کیلئے مٹھائی کا اہتمام لازمی ہوتا تھا۔ہم خود بے تکلفی سے یہ مطالبہ کر لیا کرتے تھے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ استاد صاحب کی جیب میں پیسے موجود نہ تھے تو انہیں طلبہ کے اصرار پر دکاندار کے نام رقعہ لکھ کر دینا پڑا۔گویا استادوں اور طلبہ میں ایک گھرانے کی اور باپ اور بچوں کی کیفیت ہوا کرتی تھی۔موسمی پھلوں، خربوزوں اور آموں وغیرہ کے ایام میں اساتذہ طلبہ کو پارٹی وغیرہ دیکر خوشی محسوس کرتے تھے طلبہ بھی اجتماعی تقریبیں منعقد کیا کرتے تھے۔نہر کے کنارے اور باغات میں ایسی مسرت افزا تقاریب منعقد ہوا کرتی تھیں۔ہمارے استاد جناب مولوی ارجمند خان صاحب فاضل کا بھی ان تقریبوں میں خاصہ حصہ ہوا کرتا تھا۔سردی کے ایام میں چائے کی دعوتیں ہوا کرتی تھیں۔الغرض کیا ہی خوشی کے دن ہوا کرتے تھے۔اساتذہ کو بھی اپنے قابل شاگردوں پر فخر ہوا کرتا تھا۔جب وہ کسی ہونہار شاگرد کو خدمت دین کرتے دیکھتے تو باغ باغ ہو جاتے۔مجھے مکرم سید مسعود احمد صاحب ایم اے ابن حضرت میر محمد اسحاق صاحب مبلغ ڈنمارک نے بتایا کہ انہیں ان کی والدہ محترمہ نے بتایا تھا کہ ایک دفعہ قادیان میں کوئی جلسہ یا تقریب تھی اس میں خاکسار ( ابو العطاء) نے تقریر کی تو محترمہ مرحومہ نے تعریفی انداز میں ذکر کیا اس پر حضرت میر صاحب نے محبت بھرے الفاظ میں فرمایا کہ ہمارے شاگرد ہیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دن میں مکرم حکیم نظام جان صاحب کی دکان پر گیا وہاں پر ہمارے بزرگ استاد حضرت قاضی امیر حسین صاحب تشریف فرما تھے۔میں روزانو ہو کر ادب سے سامنے بیٹھ