حیاتِ خالد — Page 631
حیات خالد 626 آخری ایام عطاء فرمائے۔ہم اس غم میں محترم مولانا صاحب کے جملہ لواحقین کے ساتھ شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس صدمہ میں صبر جمیل عطا فرمائے۔ان کو حضرت مولانا صاحب کے نقش قدم پر چلائے اور دینی اور دنیوی حسنات سے نوازتار ہے۔آمین! (الفضل ۲۵ / جولائی ۱۹۷۷ء) ہم اراکین مجلس انصار اللہ مرکز یہ ربوہ اپنے قائد تربیت محترم مولانا مجلس انصار اللہ مرکزیہ ابوالعطاء صاحب جالندھری کی وفات پرانتہائی رنج والم اور دی صدمہ د غم محسوس کرتے ہیں۔مولانا مرحوم مجلس انصار اللہ کے ایک ذمہ دار رکن اور عہدہ دار تھے۔آپ نے مختلف وقتوں میں قائد عمومی، قائد اصلاح وارشاد، قائد تربیت اور نائب صدر مجلس انصار اللہ کے عہدوں پر فائز رہ کر تا دم واپسی نہایت قابل قدر کام کیا۔آپ کو جماعتی تربیت و اصلاح کا خیال خاص طور پر رہتا جس کے لئے آپ زندگی بھر قلمی و لسانی اور حالی و قالی طور پر مصروف رہے۔آپ بفضل خدا ایک جید و تبحر عالم، عظیم مبلغ ، کامیاب مناظر ہونے کے علاوہ زبر دست صاحب قلم بھی تھے۔آپ کی ساری عمر خدمت دین اور اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے وقف رہی۔بلاد عربیہ میں بھی آپ کی نمایاں خدمات نا قابل فراموش ہیں۔آپ کا اپنے تمام بچوں کو اعلی تعلیم دلا کر خدمت دین کیلئے وقف کر دینا اسوۂ ابرا ہیمی کو تازہ کرتا اور قابل صد ستائش و تقلید نیک نمونہ ہے۔آپ کے تین جواں سال فرزند اس وقت بھی جاپان و افریقہ میں دینی اور ملی خدمات بجالا رہے ہیں۔غرضیکہ روح قربانی ، خدمت دین ، اخلاص و تقومی ، وفاشعاری و پابندی عہد وقف کے لحاظ سے آپ نمایاں حیثیت کے مالک اور عالم باعمل، صاحب کردار عظیم مجاہد تھے۔خلافت احمدیہ کے دست و بازو کے طور پر آپ کی مخلصانہ اور جاں نثارانہ مساعی کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ آپ نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ تعالی عنہ سے خالد کا جلیل القدر خطاب پایا۔ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے خالد احمدیت کی اسلام واحمدیت کے لئے عمر بھر بجا لائی گئی خدمات کو قبولیت سے نوازے۔آپ کو اپنے چنیدہ بندوں کے ساتھ اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔آپ کی اولا داور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور ہر طرح ان کا حافظ و ناصر رہے۔آمین المصل مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا یہ غیر معمولی اجلاس حضرت مولانا مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ابوالعطاء صاحب کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا