حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 622 of 923

حیاتِ خالد — Page 622

حیات خالد 617 آخری ایام حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ اور مکرم ابوالعطاء صاحب کی زندگیاں ہمارے لئے ایک نمونہ ہیں انہوں نے کبھی خدائے رحمن سے منہ نہ موڑا اور جو کچھ پایا یہی سمجھا کہ میدان کی کسی خوبی کا نتیجہ نہیں بلکہ محض خدا کا فضل تھا دونوں وجودوں کی جدائی بہت بڑا صدمہ ہے لیکن ہم بت پرست نہیں خدائے قادر و توانا پر ہمارا ایمان اور توکل ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے اور ہمارے دل میں سوائے رحمن خدا کے اور کسی کا پیار نہ ہو از سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نا فرموده ۱۰ مراحسان ۱۳۵۶ بهش مطابق - ارجون ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل دو آیات کی تلاوت فرمائی۔وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَئًا فَهُوَ لَهُ قَرِبْنَ - وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَيَحْسَبُوْنَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ۔(الزخرف: ۳۷، ۳۸) راق اس کے بعد فرمایا :- چند سال کی بات ہے کہ مجھے گرمیوں میں دو ایک سال متواتر گرمی کی تکلیف ہو جاتی رہی جس کو انگریزی میں Heat Stroke (ہیٹ سٹروک ) یعنی گرمی لگ جانا کہتے ہیں اور وہ با قاعدہ بیماری کی شکل میں تھی جس میں بخار ہو جاتا ہے اور بڑی سخت تکلیف ہوتی ہے، بے چینی اور سر درد ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب گرمی کے ایام میں گرمی میری بیماری بن جاتی ہے۔اپنے کمرے میں میں کام کرتا ہوں ، ساری ڈاک دیکھتا ہوں، ملاقاتیں کرتا ہوں، مطالعہ کرتا ہوں ، دعائیں کرتا ہوں ، جو میرے کام اور فرائض ہیں وہ میں ادا کرتا ہوں لیکن گرمی میں باہر نکلنے سے مجھے شدید تکلیف ہو جاتی ہے چکر آنے