حیاتِ خالد — Page 585
حیات خالد 579 ذاتی حالات اللہ تعالی نے عزیز ہ کی خدمات دینیہ کو قبول فرما کر اس کا انجام نہایت بہتر کر دیا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کے ہر رنگ میں شکر گزار ہیں۔جن بھائیوں اور بہنوں نے اس موقعہ پر کسی طرح بھی ہماری دلداری فرمائی ہے ان کا شکر یہ صرف اسی طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ان کیلئے دعا کی جائے۔سو یہ سلسلہ جاری ہے ورنہ سب خطوط وغیرہ کا تو جواب بھی مشکل ہے۔جَزَاهُمُ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ مرحومہ کی وفات پر خواتین مبارکه حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ، حضرت سیدہ بشری بیگم مہر آپا صاحبہ اور بے شمار احباب و خواتین نے جذبات تعزیت کا اظہار کیا۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ جماعت کے دو عظیم بزرگوں نے منظوم صورت میں بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔0 رو حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے تحریر فرمایا:- عزیزہ امتہ اللہ خورشید مدیرہ رسالہ مصباح کی ( جو مکرم و محترم جناب مولا نا مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری کی پیاری اور قابل قدر بیٹی تھیں ) جواناں مرگ اور حسرتناک وفات کے متعلق حسب ارشاد أَذْكُرُوْا مَوْتِكُمْ بِالْخَيْرِ یعنی اے اہل اسلام تم اپنے وفات یافتہ مومن بہنوں اور بھائیوں کو ان کی خیر و خوبی کی یاد سے ذکر کرو۔تا تمہارے دل میں علاوہ رغبت حسنات کے رحلت پانے والے کی شفقت اور ہمدردی کے جذبات کے احساس سے دعا کی بھی تحریک ہو۔عزیزہ امتہ اللہ خورشید رَحِمَهَا اللهُ وَ غَفَرَلَهَا وَ فِي الْجَنَّةِ رَفَعَهَا بِدَرَجاتِهَا الرَّفِيْعَةِ کے بعض محاسن کا ذکر کرتا ہوں۔سب سے بڑھ کر عالم شباب تک بشغل علم دینی و تقوی و اخلاق حسنہ میں عزیزہ کو نمایاں خصوصیت حاصل تھی اور علمی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد رسالہ مصباح کی ادارت کی خدمت میں لگ گئیں۔اور اپنے آخری وقت تک دنیا میں خورشید سے بھی بڑھ کر ضیا پاشی کی برکات ہدایت سے ہزار ہا قسم کی مخلوقات کیلئے فائدہ کا باعث بنی رہیں۔آپ کی مفید عام زیست کے مختلف حصص سے ہر حصہ ہی اپنے اندر حسنات کیلئے شرف اندوزشان کا نمونہ بنا رہا۔عزیزہ نے اپنی وفات سے قبل بستر علالت سے دعا کیلئے مجھے یاد فرمایا اور اپنے محترم والد کے ذریعے سے مجھے اپنا پیغام دیا کہ آ کر میرے لئے دعا کریں۔پھر دوسرے ہی دن مناسب سمجھ کر اپریشن کیلئے لاہور چلی گئیں اور ۲۶ ستمبر ۱۹۶۰ء کو وفات پاگئیں۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔عزیزہ کیلئے نماز جنازہ کا فریضہ اس کے والد محترم کی خواہش پر مجھے ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔