حیاتِ خالد — Page 571
حیات خالد 565 ذاتی حالات میسر آتے رہے مگر ۱۹۳۰ء میں جب یہ عاجز غالبا مدرسہ احمدیہ قادیان کی پہلی کلاس کا طالب علم تھا آپ سے جو خاص تعلق قائم ہوا اور رشتہ داری کا جو قرب حاصل ہوا اس کا خوشگوار سلسلہ ان کے آخری دم تک جاری رہا۔اس خاص تعلق کی ابتداء یوں ہوئی۔ایک روز کی بات ہے کہ میرے والد محترم حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوی ( پریزیڈنٹ ا جماعت احمد یہ سرگودھا) نے حضرت مصلح موعود کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا خط مشورہ اور دعا کی غرض سے مجھے دکھایا۔اس میں حضور اقدس نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے لئے آپ کی دختر نیک اختر یعنی ہمشیرہ محترمہ سعیدہ بیگم کا رشتہ تجویز فرمایا تھا۔والد صاحب محترم نے وہ مخط مجھے مشورہ کے لئے تو کیا دکھانا تھا اصل مقصد تو ان کا دعا ہی تھا۔حضور کو دراصل ابا جان محترم مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوی سے قریبی تعلق تھا اور حضور نے اس بے تکلفانہ تعلق کی بناء پر ہی یہ خط بھی لکھا تھا۔ایک طرف حضور کا ارشاد اور دوسری طرف مولانا ابو العطاء صاحب جیسے خادم سلسلہ کو جو قدردانی اس وقت بھی جماعت میں حاصل تھی وہ کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔چنانچہ حضور اقدس کی اس مبارک تجویز پر والد صاحب محتر ثم نے دعاؤں کے بعد لازماً مثبت ہی جواب ارسال فرما دیا اور اس طرح یہ رشتہ طے ہو گیا۔روز نامه الفضل قادیان نے حضرت مولانا کے نکاح ثانی ، رخصتانہ اور دعوت ولیمہ کی مندرجہ ذیل خبریں شائع کیں۔۱۲ اگست بعد از نماز عصر حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مولوی اللہ دتا تقریب نکاح صاحب جالندھری کا نکاح سعید و بیگم صاحبہ بنت مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوی کے ساتھ پانچ سوروپیہ مہبر پر پڑھا۔اللہ تعالی مبارک کرے۔تقریب (افضل ۱۶ اگست ۱۹۳۰ صفحه اول زیر عنوان مدینہ المسیح) ۲۹ / نومبر مولوی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل کا رخصتا نہ ہوا۔حضرت خلیفہ یب رخصتانہ صبیح الثانی ایدہ اللہ نے بھی اس تقریب میں شمولیت فرمائی۔سارے اصحاب خشی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوی کے گھر تشریف لے گئے۔چائے اور مٹھائی سے منشی صاحب نے تواضع کی۔۳۰ غ نومبر کو مولوی صاحب نے دعوت ولیمہ دی۔الفضل ۲ دسمبر ۱۹۳۰ صفحه اول زیر عنوان مدینه الهی)