حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 570 of 923

حیاتِ خالد — Page 570

حیات خالد 564 ذاتی حالات تو وہ عرض کیا جا سکتا ہے۔میں اپنے خیال میں سعادت اور خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ حضرت صاحب کی نظر عنایت مجھ پر اور میری اولاد پر ہو۔بہر حال اس بارہ میں آپ سے مشورہ کرنا اور ہمشیرہ صاحبہ کا خیال معلوم کرنا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ جلد حضرت صاحب کو جواب عرض کر سکوں۔۔۔عزیزہ سعیدہ سے بھی پوچھوں گا۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان کی کیا اولاد ہے؟ خاکسار محمد عبد الله چنانچہ مکرم والد صاحب نے اس رشتہ کی منظوری کی اطلاع حضور کی خدمت میں بھجوا دی اور رشتہ واقعی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بابرکت ثابت ہوا۔فالحمد للہ بعد ازاں جب جلد ہی رخصتانہ کا موقع پیش آیا تو حضور خود دعا کے لئے اور تقریب رخصتانه حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا، حضرت سیدہ ام ناصر اور سیدہ ام طاہر ہمارے ہاں تشریف لائیں۔اور بڑی دلچسپی لی اور دعاؤں سے نوازا۔حضور کو جب علم ہوا کہ ہمارے بعض رشتہ دار اس موقعہ پر کوئی فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں تو حضور نے فرمایا کہ ان حالات میں حضور خود پیدل دار ا صحیح تشریف لے جاتے ہیں اور عزیز و سعیدہ بیگم کو حضور کی کار میں بٹھا کر مکرم مولوی صاحب کے گھر پہنچا دیا جائے لیکن جیسا کہ نذیر احمد صاحب ڈرائیور نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے عرض کی کہ حضور کے پیدل جانے کی ضرورت نہیں۔پہلے وہ حضور کو دارایح پہنچا آتا ہے۔دس پندرہ منٹ کی تو بات ہے۔پھر ان کو محلہ دارالعلوم میں چھوڑ آؤں گا۔چنانچہ حضور نے منظور فرما لیا اور حضور کو مع اہل خانہ گھر چھوڑنے کے بعد نذیر احمد کار لے کر آیا جس میں بحفاظت عزیزہ کو مکرم مولوی صاحب کے ہاں پہنچایا اور کسی کو کوئی شرارت کرنے کی جرات بھی نہیں ہوئی۔اس طرح خدا تعالیٰ نے بعض مخالفین کی شرارتوں سے محفوظ رکھا اور حضور کی خاص توجہ سے یہ انتظام رخصتانہ انجام پذیر ہوا۔(ماہنامہ تحریک جدیدر بوه دسمبر ۱۹۸۳ء صفحه ۴، ۵ ) محترم حافظ قدرت اللہ صاحب مرحوم سابق امیر و مبلغ انچارج ہالینڈ و مبلغ انڈونیشیا، انگلستان جو حضرت مولانا کی دوسری اہلیہ محترمہ کے بھائی تھے ، لکھتے ہیں۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جن خوبیوں اور قابلیتوں کے حامل تھے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے ان کی شخصیت جماعت میں ایک نمایاں مقام کی حامل رہی ہے۔آپ کی تحریرات سے اور آپ کے مناظروں وغیرہ سے ہمیں اکثر لطف اندوز ہونے کے مواقع