حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 519 of 923

حیاتِ خالد — Page 519

حیات خالد 510 مضمون نویسی مضمون کو عمد و قرار دیتے اور بعض کہتے کہ اس کو کیا شوق چرایا ہے۔مگر میرے اساتذہ نے اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔حضرت قاضی اکمل صاحب تو بہت ہی خوش ہوئے اور بڑے زور کے ساتھ تاکید کی کہ اب یہ سلسلہ جاری رہے۔اس مضمون کی اشاعت کے دو ہفتے کے اندر اندر میرا دوسرا مضمون ”ملائکہ کی ہستی کا ثبوت ہفت روزہ الحکم میں شائع ہوا۔اس کے محترم ایڈیٹر حضرت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم نے بھی اچھے پیرایہ میں مضمون پر تبصرہ فرمایا۔اس کے بعد تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہ سلسلہ جاری ہو گیا۔اس جگہ میں اپنے عزیز نو جوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم حضرت سلطان القلم کے ماننے والے ہیں۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ پوری ہمت اور اولوالعزمی سے پیغام حق کے پہنچانے کے لئے قلم کے ہتھیار کو استعمال کرے۔اس زمانہ میں اشاعت دین کا یہ بہترین ذریعہ اور اعلیٰ جہاد ہے۔ہمارے لئے یہ بات بڑی مسرت آگیں ہے کہ آج کل نوجوانوں بلکہ احمدی بچوں میں بھی مضمون نگاری کا خاص جذبہ ہے اور انہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خالد اور تشحید الا ذہان ایسے ماہنامے عطا کر رکھے ہیں۔میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالٰی احمدی بچوں ، نو جوانوں اور بوڑھوں کو بھی حضرت سلطان القلم کے حقیقی اور سچے وارث بناۓ۔اللهم آمین یا رب العلمین۔ایک نادر مضمون (ماہنامہ خالد جولائی ۱۹۷۰ء صفحہ ۹ تا ۱۲) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے یوں تو ساری عمر مضامین لکھے جن میں انتخاب کرنا تو جوئے شیر لانے سے کم نہیں لیکن ایک مضمون ایسا ہے جو آپ کی قلمکاری کی خدا داد صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے اس تخلیق میں محبت بھی سے تخیل بھی قلم کا فسوں بھی ہے اور جذبات کی فراوانی بھی غرضیکہ یہ ایک نادر تحریر ہے۔ملاحظہ فرمائیے۔وجدانیات کا ایک نظارہ۔غار حرا صلى الله یعنی سرور دو عالم ﷺ کا مقام گریہ و بکاء کس چه میداند که از آن ناله با باشد خبر کال شفیع کرد از بهر جہاں در کنج غار