حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 514 of 923

حیاتِ خالد — Page 514

حیات خالد 504 تصنيفات نے ابتداء رسالہ الفرقان کے لکھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ لکھوایا کیونکہ ان دنوں آپ کی طبیعت ناساز تھی اور آپ آرام کی غرض سے آزاد کشمیر گئے ہوئے تھے۔جس روز آپ نے یہ مضمون اپنے بیٹے مکرم عطاء المجیب صاحب راشد کو لکھوایا آپ آرام باڑی میں ایک احمدی دوست کے مکان میں جو برلپ سڑک تھا ایک درخت کے نیچے چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔اسی حالت میں آپ نے یہ مضمون لکھوایا جو الفرقان میں اشاعت کے بعد ایک کتابچہ کی صورت میں اُردو میں شائع ہوا اور پھر انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو گیا۔اصل برکت اور تاثیر تو اللہ تعالیٰ ڈالنے والا ہوتا ہے۔اس مختصر سے پمفلٹ کے بارہ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ چھوٹا سا پمفلٹ نہ جانے کتنے لوگوں کے لئے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ایک واقعہ تو بہت معین اور ایمان افروز ہے۔انگلستان میں ایک مخلص احمد کی دوست ڈاکٹر سعید احمد خان صاحب مرحوم شادی سے قابل ایڈنبرا میں زیر تعلیم تھے۔آپ کو تبلیغ کا غیر معمولی شوق تھا آپ نے اپنے میڈیکل کالج میں ایک اور زیر تبلیغ انگریز خاتون کو تبلیغ کرنی شروع کی۔ظاہر ہے عیسائیوں سے تبلیغ کی بات ہو تو حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت ایک بنیادی موضوع ہوتا ہے۔بات اس مرحلہ پر آئی تو ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اس خاتون کو احمد یہ لٹریچر کی متعدد کتب مطالعہ کیلئے دیں لیکن صلیبی موت کا عقیدہ عیسائی ذہنوں پر اس قدر گہرائی سے مرتسم ہوتا ہے کہ حقیقت کو جاننا کچھ آسان نہیں ہوتا۔یہی بات یہاں ہوئی۔اس خاتون نے بہت سالٹر پچر پڑھ لیا لیکن معاملہ جوں کا توں رہا۔ایک روز حسن اتفاق سے ڈاکٹر صاحب کی نظر ? Death on the Cross نامی پمفلٹ پر پڑی۔آپ نے یہ پمفلٹ اس خاتون کو پڑھنے کیلئے دیا۔اس خاتون نے بعد میں بتایا کہ اس نے یہ سادہ اور مختصر پمفلٹ پڑھا تو اس پر ایک لرزہ طاری ہو گیا اور اس نے زندگی میں پہلی بار یہ محسوس کیا کہ واقعی اس بات میں کوئی صداقت ہے اور مجھے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔چنانچہ یہ پمفلٹ اس کی جستجوئے حق کا نقطہ آغاز بن گیا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے مزید مطالعہ کے بعد نیک دل خاتون نے جلد ہی بیعت کر کے حقیقی اسلام قبول کر لیا۔الحمد للہ اس نیک بخت خاتون کا اسلامی نام سلمی مبارکہ رکھا گیا اور یہ وہی خاتون ہیں جن سے بعد ازاں ڈاکٹر سعید خان صاحب کی شادی ہوئی۔یہ دونوں میاں بیوی انگلستان کے مستعد و دعوت الی اللہ کرنے والے بنے۔اور ان کے ذریعہ کئی انگریزوں کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔ڈاکٹر صاحب چند سال ہوئے فوت ہو چکے ہیں اور ان کی بیگم اب بھی دعوت الی اللہ میں مصروف ہیں۔