حیاتِ خالد — Page 477
تصنیفات حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے خدمت دین کی ابتداء کے ساتھ ہی جہاں تقاریر اور مضامین کا سلسلہ شروع کر دیا تھا وہاں کتب کی تصنیف کا سلسلہ بھی زندگی بھر جاری رکھا۔محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مؤرخ احمدیت کی مرتب کردہ فہرست اور خلافت لائبریری کی مرتب کردہ فہرست جو ذیل میں دی جا رہی ہیں ان کے مطابق حضرت مولانا کی کتب اور پمفلٹس کی مجموعی تعداد ۱۰۵ بنتی ہے۔اس میں کتب کی تعداد ۲۹ اور پمفلٹس کی تعداد ۷۶ ہے۔کتب کی اشاعت ۱۹۳۰ء سے شروع ہوئی جب حضرت مولانا نے تفہیمات ربانیہ تصنیف فرمائی۔یہ حضرت مولانا کی سب سے ضخیم اور سب سے زیادہ مشہور کتاب بھی ہے۔یادر ہے کہ اس وقت حضرت مولانا کی عمر ۲۶ سال تھی اور خدمت دین کے عملی میدان میں داخل ہوئے ابھی آپ کو بمشکل تین چار سال ہوئے تھے۔اس فہرست کے مطابق آپ کی آخری تصنیف اُردو عربی بول چال ہے۔جس کا سن تصنیف درج نہیں۔تا ہم یہ ۱۹۷۲ء کے بعد کی تصنیف ہے۔۱۹۷۷ء میں حضرت مولانا کی وفات ہوئی۔جہاں تک ٹریکٹس اور پمفلٹوں کی اشاعت کا معاملہ ہے یہ مختلف ضخامت کے ہوتے تھے چار صفحات سے لے کر دس پندرہ صفحات تک کے کتا بچوں کو ٹریکٹ کہا جاتا تھا۔پہلاٹریکٹ ۲۷ دسمبر ۱۹۲۳ء کو شائع ہوا۔یعنی پہلی کتاب کی اشاعت سے سے سال قبل اس وقت حضرت مولانا کی عمر 19 سال تھی اور ابھی آپ طالب علم تھے۔یادر ہے کہ حضرت مولانا کا پہلا مضمون ۱۹۱۹ ء میں شائع ہوا تھا جب کہ آپ کی عمر ۱۵ سال تھی۔ٹریکٹس میں سے آخری ٹریکٹ ” قیامت کبری کا ثبوت ( جو بہائیوں کے نظریہ کی تردید سے متعلق تھا ) ۴ جنوری ۱۹۶۸ء کو شائع ہوا۔فہرست تصنیفات مرتبہ: مولانا دوست محمد صاحب شاہد، مؤرخ احمدیت ) تفہیمات ربانیہ ( دسمبر ۱۹۳۰ء) تجلیات رحمانیہ (۱۹۳۱ء) النبي الحي (۱۹۳۱ء مطبوعہ حیفا)