حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 459 of 923

حیاتِ خالد — Page 459

حیات خالد 455 ماہنامہ الفرقان جواب الجواب کا لمبا سلسلہ جاری ہو جاتا۔غیر احمدی اخبارات کو خوب معلوم تھا کہ ہمارے ہر اعتراض پر کڑی گرفت ہوگی اور رسالہ الفرقان میں اس کا فوری جواب آ جائے گا۔الفرقان کا ہر پر چہ اس عظیم جہاد کا شاہکار ہوتا تھا۔حضرت مولانا کی طبیعت میں تحمل، وقار اور متانت کا پہلو ہمیشہ غالب رہتا تھا۔اس کا اظہار آپ کے مناظرات سننے والے ہمیشہ بیان کرتے رہے ہیں ہی انداز آپ کی تحریر میں بھی تھا۔مخالفین کے اعتراضات اور بعض تلخ تہروں کے جواب کے وقت بھی آپ اپنے اس مخصوص انداز کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کے انداز میں ایسی نرمی تھی کہ گویا مخالف سے دب گئے ہیں۔اس کے بالکل بر عکس آپ کے جوابات میں غیر معمولی مومنانہ جرات ، شوکت اور جلالی رنگ پایا جاتا ہے۔جب حکومت پنجاب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتب پر پابندی لگائی تو آپ نے اس پر بڑی جرات سے پر زور احتجاج کیا۔آپ کے الفاظ میں ایک دردتھا اور احکم الحاکمین خدا کے حضور فریاد تھی۔آپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ جب تک حکومت اس پابندی کو اٹھا نہیں لیتی موقع پر کہا کہ جماعت کے دوستوں کو یہ مختصر کتابچے زبانی یاد کر لینے چاہئیں۔کتاب رکھنے پر پابندی ہے اس کو یاد کرنے پر تو نہیں۔یہ آپ کی فراست ، جرات اور استقامت کا ایک خوبصورت انداز تھا۔الحمد للہ کہ جلد بعد ہی یہ پابندی اُٹھالی گئی تھی۔اس طرح جب اخبارات جماعت کے خلاف تیز و تند زبان استعمال کرتے اور بد زبانی پر اثر آتے تو اس موقع پر آپ پوری قوت ، شوکت اور زور دار انداز میں جوابی گرفت کرتے۔الفرقان کے اداریوں ، خصوصی مقالہ جات اور شذرات کی صورت میں اس کی بے شمار مثالیں الفرقان کے صفحات میں پھیلی پڑی ہیں۔ماہنامہ الفرقان کی اس خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے مکرم عطاء الحجیب صاحب را شد جو الفرقان کی مجلس ادارت میں بھی شامل رہے ہیں تحریر فرماتے ہیں:۔ماہنامہ الفرقان کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ اپنے علمی معیار اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے فوری جواب شائع کرنے کے حوالہ سے جماعت میں بہت مقبول تھا۔کسی ماہ اشاعت میں تاخیر ہو جاتی تو قارئین کے خطوط آنے شروع ہو جاتے کہ رسالہ کس وجہ سے ابھی تک نہیں ملا۔غیر احمدی اخبارات بھی الفرقان پر خوب نظر رکھتے تھے اور متعدد اخبارات کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہتا۔جو نہی