حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 352 of 923

حیاتِ خالد — Page 352

حیات خالد 352 ممالک بیرون کے اسفار گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی (اپریل مئی میں) ایک ماہ تک مشرقی پاکستان کا تبلیغی و تربیتی دورہ کیا گیا۔جنوبی بنگال کے دورہ میں صاحبزادہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید اور خاکسار دونوں تھے۔ان کے واپس آجانے کے بعد شمالی بنگال کا دورہ میں نے اسکیلے کیا۔جناب مولوی محمد صاحب بی۔اے آف بنگال سارے سفر میں ساتھ تھے۔ڈھاکہ، کٹیا دی، چٹا گانگ، کاکس بازار، کھرم پور، بر ایمن بڑیہ، تاروا، در گارام پور، پیج گاؤں ، نارائن سنج ، گائے بنداء دیناج پور، بھات گاؤں، پنجا گڑھ، احمد نگر ، اشور ڈی اور نائور وغیرہ جماعتوں میں احباب سے ملاقاتیں ، تقاریر اور جلسے ہوئے یہ (ماہنامہ الفرقان اگست ۱۹۶۱ء)۔حضرت مولانا نے اپریل ۱۹۶۳ء میں مرکز کی ہدایت پر مشرقی پاکستان کا سفر کیا۔آپ ۱۸ ر ا پریل ۱۹۶۳ ء کو بروز جمعرات ربوہ سے روانہ ہوئے بذریعہ کا ر لا ہور اور پھر ہوائی جہاز کے ذریعہ ڈھا کہ پہنچے۔آپ نے تین ماہ تک وہاں قیام کیا اور متعدد تربیتی اور جماعتی امور سرانجام دیئے۔لملخص از روزنامه الفضل ربوه ۲۶ / اپریل ۱۹۶۳ صفحهم ) ۴۔۱۹۶۶ ء میں حضرت مولانا صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، مولانا محمد صادق صاحب سماٹری اور محترم مرزا عبدالحق صاحب کے ہمراہ مشرقی پاکستان کے جلسہ سالانہ میں شرکت کیلئے گئے۔ڈھاکہ سے چٹاگانگ اور قریبی جماعتوں میں بھی گئے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶/ مارچ ۱۹۶۶ء) سفر مشرقی پاکستان ۱۹۶۷ء کے ایمان افروز تاثرات ڈھاکہ اور سندر بن کی احمد یہ جماعتوں کے شاندار سالانہ جلسے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب تحریر کرتے ہیں :- اللہ تعالی کے فضل وکرم سے جماعت احمد یہ سندربن ( مشرقی پاکستان ) کے پہلے کامیاب سالانہ جلسہ سے آج ۱۸ مارچ ۱۹۶۷ء کو واپسی پر وخانی کشتی (موٹر لانچ ) میں بیٹھے ہوئے میں یہ ایمان افروز تاثرات قلمبند کر رہا ہوں۔دریاؤں کا ایک جال ہے۔موٹر لانچ ایک دریا کے بعد دوسرے میں داخل ہو جاتی ہے۔دونوں طرف خوشنما اور دلکش قدرتی مناظر ہیں۔سندر بن کے تاریخی جنگل ہیں۔پھر آباد علاقے بھی ہیں۔ہر طرف سبزہ ہے۔کشتی بڑی سرعت سے پانیوں کو