حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 345 of 923

حیاتِ خالد — Page 345

حیات خالد ہندوستان 345 ممالک بیرون کے اسفار ممالک بیرون کے اسفار حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے اپنی زندگی میں سب سے پہلا بیرون ملک سفر بلاد عر بید کا اختیار کیا۔یہ وہ سفر تھا جس کا انتقام ساڑھے چار سال کے بعد ہوا۔گزشتہ صفحات میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔اس کے علاوہ آپ کو ہندوستان مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) ، انگلستان اور ایران کے سفروں کا موقع ملا۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کی پیدائش ہندوستان کے ضلع جالندھر کے ایک چھوٹے سے گاؤں کر یبا میں ہوئی۔اس نسبت سے اس سرزمین کے ساتھ آپ کا ایک پیدائشی تعلق ہے۔پھر اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کیلئے چنا، قادیان دار الامان میں آپ کی پیدائش ہوئی اور یہ مقدس بہتی جماعت احمدیہ کا دائگی مرکز قرار پائی ، اس ملک کے ساتھ ہر احمدی کا ایک نہ ٹوٹنے والا روحانی رشتہ ہے۔حضرت مولا نا ۱۹۱۶ء میں پہلی بار قادیان تشریف لائے۔اس بستی میں آپ نے ساری دینی تعلیم حاصل کی یہیں آپ کی شادی ہوئی اور یہیں سے آپ نے دینی خدمات کا آغاز کیا۔سفر فلسطین کے ساڑھے چار سال کے علاوہ ۱۹۴۷ء تک کا سارا عرصہ آپ نے قادیان میں گزارا۔آپ نے ہندوستان کے طول و عرض میں بے شمار سفر اختیار فرمائے ، جگہ جگہ مناظرات کئے اور بستی بستی جلسوں میں تقاریر کیں۔اس لحاظ سے آپ کو ہندوستان اور بالخصوص قادیان کے ساتھ ایک غیر معمولی محبت اور قلبی و روحانی لگاؤ تھا۔۱۹۴۷ء میں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور ہندوستان و پاکستان دو الگ الگ خود مختار ملکوں کے طور پر دنیا کے نقشہ میں ظاہر ہوئے تو آپ نے قادیان سے پاکستان ہجرت فرمائی۔لاہور اور چنیوٹ کے مختصر قیام کے بعد آپ نے احمد نگر میں رہائش اختیار کی اور ربوہ کے قیام کے چند سال بعد مستقل طور پر ربوہ میں آباد ہو گئے اور اس بستی میں مدفون ہیں۔قادیان سے اس گہرے روحانی اور قلبی لگاؤ کی وجہ سے آپ ہمیشہ ذہنی اور تصوراتی اعتبار سے اس مقدس بستی کی فضا میں سانس لیتے رہے۔جب کبھی آپ قادیان سے باہر جاتے تو یہ خواہش ہوتی کہ کام پورا ہو اور آپ واپس دار الامان پہنچ جائیں۔جب تبلیغ اسلام کی خاطر آپ کو بلا عر بیہ بھجوایا گیا تو قادیان کی یاد آپ کے ساتھ ساتھ رہی۔آپ نے د عربیہ اپنے دلی جذبات کا اظہار غالباً پہلی بار منظوم صورت میں کیا۔یہ نظم آپ کے جذبات محبت کی خوب عکاسی کرتی ہے۔تنظیم درج ذیل ہے۔