حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 310 of 923

حیاتِ خالد — Page 310

حیات خالد 309 بلا د عر بیہ میں تبلیغ اسلام لیا۔اور سنگترہ لے لیا۔گویا یہ سبق تمام افراد کے لئے تھا کہ چھوٹی چھوٹی اور بظاہر معمولی باتوں میں بھی ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا دامن پکڑے رہنا چاہئے۔اختلاف سے گریز کرنا چاہئے۔عبدالمالک محمد عوده صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ ایک پولیس افسر جس کا نام محمد یا فیصل تھا اور حیفا کے حسینی خاندان سے اس کا تعلق تھا۔رات کو قریباً گیارہ بجے احمدیہ مسجد کہا بیر چند سپاہیوں کے ساتھ آیا۔اور مولانا موصوف کے کمرے کا دروازہ دھکا دے کر کھول دیا اور اندر داخل ہو گیا۔اس پر مولانا نے اسے فوراً کمرہ سے باہر جانے کے لئے کہا۔اس نے انکار کیا۔مولانا نے اسے زبر دستی کمرہ سے باہر دھکیل دیا۔اور دروازہ بند کر دیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ کرد سے باہر تشریف لائے۔اور پوچھا کیا بات ہے؟ پولیس افسر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ تھا نہ چلیں۔مولانا نے فرمایا میں پولیس چوکی جانے کے لئے تیار ہوں۔لیکن یہ بات یاد رکھیں اگر میں تھا نہ گیا اور وہاں افسران بالا کے سامنے حقیقت بیان کی تو آپ کو نوکری اور وردی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔مولانا نے مزید فرمایا۔پولیس کا کام امن کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔اگر پولیس ہی عوام الناس کے امن کو خراب کرنے کا باعث بن جائے تو چور اور سپاہی میں کیا فرق رہا۔اور خاص طور پر ایک پولیس افسر رات کے اندھیرے میں کسی کا دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہو جائے تو اسے منصب پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔مولانا نے انہیں سمجھایا اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا تو آپ کو پہلے دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تھا۔اگر میں نہ کھولتا تو آپ کا حق تھا کہ دروازہ توڑ دیتے۔مگر رات کے اندھیرے میں بغیر کسی اطلاع کے اچانک دروازہ توڑ کر کسی کے گھر داخل ہونا بدترین جرم ہے۔سپاہیوں نے اپنے افسر کی غلطی کو محسوس کیا۔اور مولانا سے معذرت کی۔سپاہیوں نے بتایا کہ پولیس افسر نے شراب پی ہوئی ہے۔نشے کی حالت میں اس نے ایسا کیا ہے۔ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں۔مولانا معاملہ کو طول دینا نہ چاہتے تھے۔اس لئے بات کو وہاں ہی ختم کر دیا۔پولیس افسر اور سپاہی فور اوہاں سے چلے گئے۔پھر دوبارہ کبھی نہ آئے۔یہ واقعہ حضرت مولانا کی جرات اور حکمت عملی پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے ایک کلاس فیلو اور ایک دوست کے تاثرات میدان عمل میں آپ کے ساتھی محترم مولانا محمد یار عارف صاحب سابق مبلغ انگلستان حضرت مولانا کے قیام فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔