حیاتِ خالد — Page 262
حیات خالد 268 مناظرات کے میدان میں حدود کو پھلانگ جایا کرتے ہیں مگر مرحوم بہت ہی محتاط رہتے۔اسلامی اخلاق اور تقویٰ کے دامن کو بالکل ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔سمجھدار اور نیک طبائع ان کی اخلاقی بلندی سے متاثر ہوئے بغیر روزنامه الفضل ربوه ۵ جون ۱۹۷۹ء صفحه ۵) نہیں رہتی تھیں۔0 " محترم مولانا شیخ نور احمد صاحب منیر سابق مبلغ بلاد عر بیہ لکھتے ہیں۔مولانا نے اپنے زمانہ تعلیم سے ہی مخالف اسلام تحاریک آریہ سماج اور عیسائیت کا وسیع مطالعہ کر کے ان کے خلاف قلمی جہاد کا آغاز کر دیا تھا۔کئی مناظرے کئے ، لیکچرز دیئے۔دہلی میں ایک آریہ سماجی پنڈت سے مناظرہ ہوا تو آپ نے اس مناظرہ میں اسلام کی تصویر اس انداز میں پیش کی اور اسلام کے فضائل اس طور سے بیان کئے کہ مسلمانوں نے آپ کو کندھوں پر اٹھا کر اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔مخالف آپ کے مدلل انداز بیان سے مرعوب ہو جایا کرتا تھا۔( الفضل ۳ جولائی ۱۹۷۷ء ) محترم مولانا محمد یار عارف صاحب مرحوم جو مشہور مناظر اور مناظروں میں حضرت 0۔مولانا کے ساتھی تھے بعد ازاں مبلغ انگلستان بھی رہے، فرماتے ہیں۔" جب ہم مبلغین کلاس سے فارغ ہوئے اس وقت تک بھی ہندوستان میں مذاہب کی جنگ زوروں پر تھی اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صداقت اسلام کے بیان کردہ دلائل کی اشاعت کا سنہری موقع تھا۔چنانچہ ہمارے بھائی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اس میں وافر اور بھر پور حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی اور خدا تعالیٰ نے محض ذرہ نوازی فرماتے ہوئے عاجز کو بھی ان کے ساتھ چند سال نمایاں طور پر خدمت کا موقعہ دیا۔مناظرات اس کثرت سے ہوتے تھے کہ اکثر دفعہ ایک مناظرہ سے واپس قادیان پہنچتے تو دوسرے کیلئے روانہ ہونا پڑتا تھا۔حوالہ جات کیلئے کتابوں کے ٹرنک بند کے بند واپس ساتھ لے جاتے تھے۔ان دنوں جس مناظرہ میں ہم دونوں موجود ہوتے تو ایک صدر اور دوسرا مناظر ہوتا تھا صدر کا کام بروقت حوالہ دینا اور ہر طرح کا کنٹرول کرنا ہوتا تھا)۔مضامین مناظرہ تقسیم کر لئے جاتے تھے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس عرصہ میں ہم اس قدر کامیاب مناظر ثابت ہوئے کہ جب ۱۹۳۱ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے ایک کو بلا دھر ہیں اور دوسرے کو انگلستان بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو حضور کے بعض بے تکلف خادموں نے یہاں تک عرض کیا کہ ان دونوں کو اکٹھے نہ بھیجا جائے ورنہ مناظرات میں ہمیں جو بالا دستی حاصل ہے اس میں فرق آ جائے گا۔لیکن خدا تعالیٰ کا سلسلہ انسانوں کا محتاج نہیں بلکہ ہم انسان اس کے محتاج ہیں۔چنانچہ ہمارے جانے کے بعد محترم ملک