حیاتِ خالد — Page 255
حیات خالد اللہ دتا صاحب کو بلا لاؤ۔261 مناظرات کے میدان میں ایک دفعہ ہمارے گاؤں میں ہمارا ایک رشتہ دار غیر احمدی مولوی آیا ہوا تھا۔یہ مولوی مولانا ثناء اللہ صاحب کا شاگرد تھا۔انہی دنوں ایک بہائی مبلغ بھی وہاں آیا ہوا تھا۔اس مولوی صاحب سے اس بہائی کی گفتگو ہوتی رہتی۔لیکن وہ غیر احمدی مولوی جس کا اب مجھے نام یاد نہیں رہا وہ ہمارے گاؤں کی ارائیں برادری کا رشتہ دار تھا۔وہ بہائی مبلغ سے گفتگو کر کے عاجز آ گیا آخر وہ مجھے کہنے لگا عبدالغفور ! آپ کے ایک مولوی اللہ دتا کا نام ہم نے سنا ہوا ہے۔ہم نے سنا ہے کہ وہ بڑا عالم اور مناظر ہے اس کو تو جا کر بلا لاؤ۔میں نے کہا اچھا میں قادیان جاتا ہوں اگر ان کے پاس آنے کا وقت ہوا تو لے آؤں گا۔میں نے اتنی بات کہہ کر سائیکل پکڑا اور قادیان آ گیا۔اس وقت مولانا صاحب جامعہ میں ایک کلاس کو پڑھا رہے تھے۔جب میں ان سے ملا تو بڑے خوش ہوئے۔مجھے کہا آؤ بیٹھو، کیسے آئے ؟ میں نے عرض کیا میں تو آپ کو لینے آیا ہوں کیونکہ ہمارے گاؤں میں ایک بہائی مبلغ آیا ہوا ہے وہ ہماری پیش نہیں جانے دیتا ایک غیر احمدی مولوی نے مجھے بھیجا ہے کہ میں آپ کو بلا کر لاؤں۔حضرت مولانا بولے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے پاس جاؤ اور ان کو کہو کہ ہمیں مولوی چاہئے۔وہ مجھے لکھ دیں گے تو میں آپ کے گاؤں آ جاؤں گا۔میں چوہدری صاحب کے پاس ان کے دفتر میں گیا۔وہ کہنے لگے اچھا میں آپ کے ساتھ کسی مولوی صاحب کو بھیج دیتا ہوں۔میں نے کہا ہمیں اور کوئی مولوی صاحب نہیں چاہئیں۔ہمیں تو صرف مولانا اللہ دتا صاحب چاہئیں۔چوہدری صاحب ہنس پڑے کہنے لگے کیوں بھئی! آپ کو کوئی اور مولوی صاحب کیوں نہیں چاہئیں۔میں نے عرض کیا کہ ہمارے سب گاؤں والوں کی خواہش ہے کہ مولوی اللہ دتا صاحب کو بلایا جائے۔چوہدری صاحب نے چٹھی لکھ دی۔وہ چٹھی لے کر میں حضرت مولوی صاحب کے پاس آیا۔انہوں نے کہا اچھا تم جاؤ میں کلاسیں ختم کر کے شام کو آؤں گا۔شام کو حضرت مولانا بھول کر دوسری کڑی (گاؤں) میں چلے گئے اور رات وہیں رہے۔اگلے دن صبح ہمارے گاؤں آئے۔رات کو ہم سب کو بڑی پریشانی ہوئی کہ پتہ نہیں حضرت مولانا کیوں نہیں آئے۔بہائی تو تالیاں بجانے لگے کہ آپ کا مولوی اللہ دتا نہیں آئے گا۔صبح جب مولانا صاحب تشریف لائے تو سب بہائیوں پر سکتہ طاری ہو گیا۔وہ غیر احمدی مولوی بڑا خوش ہوا۔آخر اس بہائی مبلغ سے حضرت مولانا صاحب کی گفتگو شروع ہوئی۔موضوع تھا قرآن شریف منسوخ ہو سکتا ہے کہ نہیں ؟