حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 250 of 923

حیاتِ خالد — Page 250

حیات خالد 256 مناظرات کے میدان میں حدیث لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے پڑھ کر سنائی۔جس کا مطلب یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور ساتھ ہی بیان کیا کہ یہ حدیث بخاری شریف کی ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے بھر پور خود اعتمادی سے چیلنج کیا کہ اگر یہ حدیث بخاری سے ثابت کر دیں تو ہیں روپیہ انعام کے دیئے جائیں گے۔مولوی محمد امین صاحب نے چیلنج قبول کر لیا اور کہالا و حدیث کی کتاب اور ساتھ ہی میں روپیہ بھی بھیج دیں۔حضرت مولانا نے فورا ہیں روپے اور بخاری شریف پیش کر دی۔مگر حدیث نے نہ ملنا تھا نہ ملی آخر کار بخاری شریف اور بیس روپے احمدیوں کو واپس کر دئیے گئے۔(الفضل ۲۴ / جنوری ۱۹۳۱ء صفحه ۱۲) خود اعتمادی کے ضمن میں ایک اہم واقعہ خصوصیت خود اعتمادی کا ایک غیر معمولی اظہار سے قابل بیان ہے مارچ ۱۹۳۰ء میں آریہ مناظر دھرم بھکشو سے حیدر آباد دکن میں مناظرہ ہوا۔حضرت مولانا کو انجمن اتحاد المسلمین نے بلایا۔اس کے با وجود آریہ مناظر نے اعتراض کر دیا کہ مسلمان تو آپ کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔حضرت مولانا کی زبر دست خود اعتمادی یکا یک بیدار ہو گئی۔آپ نے بھرے مجمع میں اپنا رخ غیر احمدی مسلمانوں کی طرف کر لیا اور ان مسلمانوں کے علماء کی طرف پلٹے جو آپ کی اطراف میں مسلمانوں کے ایک کثیر مجمع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔اور ان علماء سے پوچھا کہ وہ انہیں کیا سمجھتے ہیں۔اس پر مولانا سید محمد بادشاہ صاحب معتمد علماء دکن، شیعہ فرقہ کے مولانا سید بندہ حسن صاحب اور بوہرہ فرقہ کے مولانا ابو الفتح صاحب نے برملا اعلان کیا کہ وہ مولانا ابوالعطاء صاحب کو مسلمان سمجھتے ہیں۔اس پر مباحثہ ہوا اور مباحثہ کی کامیابی یہ تھی کہ اختتام پر مسلمان مولانا سے شرف مصافحہ حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور مولانا کے ہاتھ چوم رہے تھے۔نواب بہادر یار جنگ صاحب بعد ازاں اس واقعہ کا ذکر ہمیشہ تعریفی رنگ میں یوں کرتے تھے کہ۔و, مولانا ابو العطاء صاحب کا یہ کمال تھا کہ اپنے مسلمان ہونے کی تصدیق ہزار ہا مسلمانوں کے مجمع میں علماء سے کر والی تھی۔( بدر قادیان ۱۴ ستمبر ۱۹۶۷ء صفحه ۷ ) یہ حضرت مولانا کی زبردست حکمت عملی اور خود اعتمادی کا شاندار مظاہرہ تھا کہ حالات کے پیش نظر آپ اپنی فراست و ذہانت سے بھانپ گئے کہ ایسی صورت میں علماء حضرات لازماً میرے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے۔حضرت مولانا کی یہ خود اعتمادی ہمیشہ میدان مناظرہ میں کامیابی اور سرفرازی کی ایک اہم بنیا د ثابت ہوئی۔