حیاتِ خالد — Page 200
حیات خالد 206 مناظرات کے میدان میں جن کے میں نے مفصل جواب دیئے اور آخر میں ان کو مباہلہ کی اہمیت اور اس کے نتائج سے آگاہ کر کے اندار کیا۔اس وقت حکیم اللہ بخش نے ظاہر کیا کہ گویا وہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھ کر مزید تحقیقات کی ضرورت سمجھتے ہیں۔لیکن مولوی بشیر احمد اور سردار اجمل خان کے کہنے پر کہ ہمیں مرزا صاحب کے کذب پر یقین ہے۔ہم اب وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔اگر تم مباہلہ کیلئے تیار نہیں تو ہم ہی ! کر لیں گے۔حکیم اللہ بخش بھی تیار ہو گئے اور سب حاضرین مسجد میں گئے پہلے غیر احمدیوں نے بددعا کے مندرجہ بالا الفاظ پڑھ کر آمین کہی۔پھر احمدی احباب نے مقررہ الفاظ پڑھ کر آمین کہی اور یہ اجتماع برخاست ہو گیا۔میں اس تمام واقعہ کو درج کر کے جماعت احمدیہ کے مخلصین سے درخواست کرتا درخواست دعا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا کریں کہ وہ ہمارے ان پانچوں احباب کو جو مباہلہ میں شریک ہوئے ہیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور ان کی تائید و نصرت فرما دے اور غیر احمدی مکذبین کیلئے اگر ہدایت مقدر نہیں تو انہیں احمدیت اور اپنے پیارے مظلوم بندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کیلئے چمکتا ہوا نشان بنا دے۔آمین ثم آمین۔خاکسارا ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری مولوی فاضل قادیان روزنامه الفضل قادیان دار الامان : ۱۹ رمئی ۱۹۳۶ء : صفحه ۵ تا ۷ ) گوجرانوالہ میں ”مولوی ثناء اللہ کیسا تھ آخری فیصلہ پر کامیاب مناظرہ ۱۹ جون ۱۹۳۶ء کو محمد یہ بینگ مین انجمن نے محمد عبد اللہ صاحب معمار امرتسری کو گوجرانوالہ بلایا تا کہ احمدیت کے خلاف لیکچر دے۔عبداللہ صاحب کے متعلق یہاں کے اکثر غیر احمد یوں کو یہ وہم تھا کہ اس کے اعتراضات کے جواب احمدیوں کے بڑے بڑے مبلغ بھی نہیں دے سکتے مگر قدرت کو یہ منظور تھا کہ حق و باطل میں تمیز ہو جائے۔وزیر آباد کے جلسے سے آتے ہوئے جناب مولوی ابوالعطاء صاحب کو ہم نے گوجوانوالہ میں اتار لیا۔ادھر سیکرٹری محمد یہ ینگ مین سے مناظرہ کی شرائط طے کر لیں۔ان کی اپنی خواہش پر قرار یہ پایا کہ شاہ اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ پر ایک محفوظ مکان میں مساوی آدمیوں کی تعداد میں پرائیویٹ طور پر دو گھنٹے مناظرہ ہو۔جسے منظور کر لیا گیا۔آخر ۲۰ / جون کی صبح کو ساڑھے چھ بجے مناظرہ شروع ہوا۔اگر چہ ہر دو فریق کی طرف سے تیں تھیں آدمی شریک ہو سکتے تھے لیکن غیر احمدیوں نے اپنے آدمی زیادہ تعداد میں داخل کر لئے۔مولوی صاحب موصوف نے مضبوط دلائل سے "