حیاتِ خالد — Page 176
حیات خالد 182 مناظرات کے میدان میں ثبوت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعاوی میں صادق تھے۔پھر آپ نے قرآن مجید کے میعاد سے روز روشن کی طرح ثابت کیا کہ جھوٹا مدعی ۲۳ سال کا عرصہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کی عمر ہے نہیں پاسکتا۔اگر مخالفین مسیح موعود کا انکار کریں تو پھر وہ عیسائیوں اور آریوں کے سامنے اس قرآنی معیار کی رو سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کیسے ثابت کر سکتے ہیں۔مولوی محمد شفیع صاحب اپنی تقریروں میں ان قرآنی معیاروں پر کوئی معقول جرح نہ کر سکے۔مولوی اللہ دتا صاحب نے ثابت کیا تھا کہ يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللهِ أَفْوَاجًا نصرت الہی کا ثبوت ہے۔جیسا کہ سورۃ فتح إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ والفتح الح سے ظاہر ہے۔مولوی محمد شفیع صاحب نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ لاکھوں آدمی ہو گئے جس کے جواب میں مولوی اللہ دتا صاحب نے فرمایا۔پھر مسیلمہ کذاب کا جو انجام ہوا کیا وہ آپ کو یاد نہیں۔اب کون اس کا نام لیوا باقی ہے؟ اس کا تو چند سالوں میں ہی خاتمہ ہو گیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور اکناف عالم میں پھیلتی چلی جارہی ہے۔اگر یہ نصرت نہیں تو پھر آپ کا یہ اعتراض مجھ پر نہیں قرآن مجید پر ہے جس میں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللہ افواجا کو نصرت الہی قرار دیا گیا ہے۔مدعی کا نیب کے ۲۳ سال مہلت نہ پانے والے معیار کے مقابل میں مولوی محمد شفیع صاحب نے کہا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے۔جس کا جواب مولوی اللہ دتا صاحب نے یہ دیا کہ دلیل میں عمومیت ہونی چاہئے ورنہ یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کیلئے بھی مخالف کیلئے جت نہ ہو سکے گی۔جب مولوی محمد شفیع اس جرح سے عاجز آگئے تو کہنے لگے میں ایسے مدعی پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے ۲۳ سال کی مہلت پائی میرے پاس ایسے مدعی کی کتاب موجود ہے۔مولوی اللہ دتا صاحب نے فرمایا کہ جس کی طرف آپ کا اشارہ ہے وہ اچھا نبی ہے وہ بے چارا ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے اور اپنے دماغ کا علاج کراتا پھرتا ہے۔اس پر مولوی محمد شفیع نے کہا مرزا صاحب بھی اسی طرح پاگل تھے انہیں دماغی بیماری تھی۔اس کا جواب مولوی اللہ دتا صاحب نے یہ دیا کہ اگر حضرت مرزا صاحب نعوذ باللہ پاگل تھے تو پھر آپ لوگوں سے بڑھ کر کوئی پاگل نہیں ہو سکتا جو ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔تم لوگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں اس شدت سے کمر بستہ رہنا ہی صاف بتاتا ہے کہ تمہارے دل گواہ ہیں کہ حضرت مرزا صاحب پاگل نہ تھے۔مولوی محمد شفیع چونکہ قرآنی معیاروں پر کوئی معقول جرح کرنے سے عاجز تھے اس لئے انہوں نے