حیاتِ خالد — Page 175
حیات خالد 181 احمد یہ لائل پور نے الفضل میں شائع کروائی ذیل میں درج کی جاتی ہے۔مناظرات سے میدان میں چند ماہ سے لائل پور میں غیر احمدی علماء سلسلہ احمدیہ کے خلاف وفات مسیح پر مناظرہ سے فرار قریرا اور حریر بے شمار غلط بیانیاں کر کے ہمارے خلاف تحریراً لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔کبھی کبھی باہر سے بھی علماء بلا لئے جاتے ہیں۔چنانچہ ۱۵ر ماہ حال (نومبر ۱۹۳۰ء) باہر سے مولوی محمد شفیع ، مولوی محمد مسعود اور حافظ محمد شریف کو ہلا کر دو دن سلسلہ احمدیہ کے خلاف سخت اشتعال انگیز لیکچر دلائے۔ان علماء نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو توڑ مروڑ کر آپ کی شان میں بے حد گستاخی کرتے ہوئے اپنے شَرُّ مَنْ تَحْتَ اَدِيْمِ السَّمَاءِ کے مصداق ہونے کا ثبوت دیا۔موجودہ ملکی فضا کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نہیں چاہتے تھے کہ غیر احمدیوں سے مناظرہ ہو۔چنانچہ ہم چند ماہ سے ان کی گالیاں سن کر مناظرہ سے احتراز کرتے رہے مگر جب معاملہ آب از سرگذشت والا ہو گیا تو ہم مناظرہ کیلئے مجبور ہو گئے۔چنانچہ ۲۰۱۹ نومبر کو ختم نبوت کی حقیقت اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر نہایت کامیاب مناظرہ ہوا۔جس کا خدا کے فضل سے تمام تعلیم یافتہ اور سنجیدہ طبقہ پر خاص اثر ہوا۔غیر احمدی علماء وفات مسیح علیہ السلام پر مناظرہ کا چیلنج منظور کرنے اور بھرے جلسہ میں منظوری کا اعلان کرنے کے باوجود اس مسئلہ پر مناظرہ کرنے سے فرار کر گئے۔ار نومبر کو ساڑھے آٹھ بجے شب مولوی محمد یار صاحب مولوی فاضل اور مولوی محمد مسعود صاحب کے مائین مسئلہ نبوت پر قریباً تین گھنٹے نہایت کامیاب مناظرہ ہوا۔دوسرے دن صداقت مسیح موعود علیہ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گفتگو السلام پر بوقت ساڑھے آٹھ بجے شب تقریباً ۳ گھنٹے مولوی محمد شفیع صاحب اور مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری کے درمیان مناظرہ ہوا۔مولوی اللہ دتا صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں قرآن کریم کی متعدد آیات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو مبرہن کیا۔آپ نے ثابت کیا کہ مفتری علی اللہ کی ہرگز وہ تائید اور نصرت نہیں ہو سکتی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہوئی اور چیلنج دیا کہ فریق ثانی کسی کا ذب مدعی کو پیش کر کے دکھائے جس کی ایسی تائید و نصرت ہوئی ہو۔پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعجازی کلام پیش کیا اور ثابت کیا کہ اس کے مقابل پر تمام علماء کا عاجز ہونا از روئے قرآن اس بات کا زبردست