حیاتِ خالد — Page 122
حیات خالد 128 مناظرات کے میدان میں تھے۔حضرت مسیح ناصری کے سامنے جب یہ اعتراض پیش ہوا تو آپ نے یوحنا کے حق میں فرمایا :- چاہو تو مانو ایلیا جو آنے والا تھا یہی ہے جس کے سننے کے کان ہوں وہ سن لئے (متی ۱۴:۱۱) حضرت مسیح کا فیصلہ نص ہے کہ آپ کی دوبارہ آمد بھی اسی رنگ میں ہوگی ورنہ وہ فیصلہ غلط ٹھہرے گا۔اب دیکھئے مثیل ایلیا کی پیشگوئی نہ تھی بلکہ خود ایلیا کے آنے کی بشارت دی گئی تھی مگر اس سے مراد مثیل ایلیا حضرت بیٹی نکلے۔تو مسیح کی پیشگوئی میں کیوں مثیل مسیح مراد نہیں ہو سکتا ؟ پادری مرقس ۱۲:۹ میں لکھا ہے کہ ایلیا آئے گا گویا ابھی قیامت سے پہلے اصل ایلیا بھی آئے گا مگر جو ایلیا آ چکا ہے اس سے مراد ان کی کشفی آمد ہے جو کہ مرقس کے اس باب میں مذکور ہے۔احمد کی متی ۱۴:۱۱ کا حوالہ بالکل واضح ہے باقی رہا مرقس ۱۲:۹ اس میں حضرت مسیح نے یہود کے اعتراض ایلیا کا پہلے آنا ضرور ہے“ کو درست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے : ”ایلیا البتہ پہلے آ کر سب کچھ بحال کرے گا اس فقرہ سے حضرت مسیح کی قطعا یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ میرے بعد ایلیا آئے گا ورنہ الفاظ پہلے آ کر غلط ہو جائیں گے۔چنانچہ اسی باب کی تیرہویں آیت صاف فیصلہ دیتی ہے کہ کیا مطلب ہے جہاں حضرت مسیح فرماتے ہیں : ”لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیا تو آ چکا اور جیسا اس کے حق میں لکھا ہوا ہے انہوں نے جو کچھ چاہا اس کے ساتھ کیا۔اب متی کا کلمہ حصر ( جو آنے والا تھا یہی ہے ) اور مرقس کی یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ ایلیا کی آمد مسیح سے قبل ضروری تھی اور وہ حضرت یوجنا کے رنگ میں ہو چکی۔کشفی آمد مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ منکرین کے لئے نہ تھی۔نیز اس جگہ تو لکھا ہے کہ موسیٰ بھی آئے تھے۔اگر کشفی آمد مراد ہوتی تو حضرت موسیٰ کا ذکر زیادہ مناسب تھا۔کیونکہ وہ یہود کے سب سے بڑے نبی تھے۔پس ایلیا کے تنازع اور حضرت مسیح کے فیصلہ نے مسیح کی آمد ثانی کی حقیقت بھی واضح کر دی۔پادری: کلیہ میں سے استثناء بھی ہوا کرتے ہیں۔ایلیا کا واقعہ مستقلی ہے۔احمدی: کس کلیہ میں سے اتنا ہوا؟ صرف ایک شخص ایلیا کی آمد ثانی کا وعدہ معہد نقیق میں تھا۔وہی مستقلی بن گیا تو اب کلیہ صفر رہ گیا۔مقدمات میں نظائر سے فیصلہ کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے قضیہ میں ایلیا کے مقدمہ کا فیصلہ از حضرت مسیح ناصری عیسائیوں کے لئے حجت ہونا چاہئے۔پادری حضرت مسیح کے الفاظ میں آؤں گا" قابل تاویل نہیں ان کی موجودگی میں مثیل کی گنجائش نہیں۔احمدی: ایلیا نبی کو بھیجوں گا بھی قابل تاویل نہیں پھر ان میں مثیل کی گنجائش کیسے نکل آئی ؟ اسی