حیاتِ خالد — Page 878
حیات خالد 859 گلدستۂ سیرت 0 مکرم عطاء المجیب صاحب راشد نے اپنے والد محترم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے بارہ میں چند یادوں کو اختصار سے مرتب کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں :- حضرت ابا جان نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک مکمل اور کامیاب زندگی گزاری۔اللہ تعالی کی رحمتوں اور برکتوں کے سایہ میں، خدمت دین سے بھر پور اور خدائی تائیدات سے معمور ایسی پُرسکون اور روحانی زندگی گزاری جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک نفس معلمینہ عطا فرما دیا۔آپ دنیا میں رہے لیکن دنیا سے الگ رہے۔دنیا کی محبت کلیۂ سرد ہو چکی تھی اور اللہ کی محبت ہر چیز پر غالب تھی۔اس کیفیت میں زندگی کی ہر مشکل اور مصیبت آسان ہو جاتی اور دل ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے شکر سے بھرارہتا۔یہ پُر سکون زندگی خوشیوں کی آماجگاہ تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا جیتا جاگتا نمونہ۔آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہر چیز پر مقدم تھی۔آپ زندگی بھر اس بات کا قول بھی اور عملاً بھی درس دیتے رہے کہ ایک ہی ہے جس کی ذات اور جس کی وفا بھروسہ کے لائق ہے۔اللہ تعالیٰ پر زندہ یقین آپ کی زندگی کا مرکزی نقطہ تھا۔اس حستی و قیوم خدا پر کامل بھروسہ آپ کا شعار تھا۔ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھو کہ وہی ہے جو سب سے زیادہ وفا کرنے والا اور ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والا ہے۔دنیا اور اہل دنیا پر کبھی بھروسہ نہ کرو۔حضرت ابا جان کی زندگی میں عاجزی اور شکر گزاری بہت زیادہ تھی۔گھر کے ماحول میں میں نے آپ کی زبانی عجز و انکسار کا ذکر بار ہاسنا۔اپنے ابتدائی حالات اور تنگی کے زمانوں کو ہمیشہ یادر رکھتے اور پھر بعد کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے لاتعداد فضلوں کو یاد کر کے ہمیشہ اس کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔اس موضوع پر بات کرتے ہوئے آپ ہمیشہ آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے اور ایسے ایسے انداز میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اس کو سن کر میں بھی جذبات سے مغلوب ہو جاتا تھا۔آپ کی کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کی زندہ تفسیر ہوتی تھی۔بع سب کچھ تیری عطا ہے، گھر سے تو کچھ نہ لائے آپ کو اپنی والدہ مرحومہ سے بہت ہی پیار تھا۔ہر سال یکم ستمبر کو ان کو یاد کیا کرتے تھے۔ان کے لئے دعائیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میری والدہ تو میرے لئے مجسم دعا تھیں۔حضرت ابا جان کی زندگی میں ایک نمایاں بات یہ تھی کہ آپ نماز جنازہ میں شمولیت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے قطع نظر اس بات کے کہ کس کا جنازہ ہے۔ورثاء سے ہمدردی فرماتے اور حتی الوسع تدفین