حیاتِ خالد — Page 877
حیات خالد 858 گلدستہ سیرت نے محترم میاں محمد یا مین صاحب اور حافظ صاحب کے بارے میں روز نامہ الفضل میں تفصیلی مضامین بھی لکھے۔یہ ان کی خاص محبت و شفقت تھی۔0 مکرم شیخ عبدالمجید صاحب ابن شیخ رحمت اللہ صاحب لکھتے ہیں :۔۱۹۷۴ء میں جب احمدیت کی شدید مخالفت کا دور تھا، گھر جلائے جارہے تھے، املاک لوٹی جارہی تھیں۔میں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو حفاظت کی غرض سے ایک غیر احمدی ملازم کے ہمراہ ربوہ میں (اپنی اہلیہ کی ہمشیرہ محترمہ امینہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ نذیر احمد صاحب مرحوم کے گھر بذریعہ ٹرین بھجوا دیا۔پروگرام کے مطابق ملازم نے میری فیملی کو چھوڑ کر واپس آکر مجھے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دینا تھی۔اس دن شرین بہت لیٹ ہوگئی۔آدھی رات گزر جانے پر مجھے بہت تشویش ہوئی۔ان دنوں ٹیلیفون کی سہولت بھی بہت کم میسر تھی۔چنانچہ میں نے اپنی فیملی کے خیریت سے پہنچنے کے بارے میں پتہ کرنے کیلئے محترم حضرت مولانا ابو العطا صاحب جالندھری کے گھر فون کیا۔آپ کا گھر شیخ نذیر صاحب کے گھر سے کچھ فاصلہ پر تھا۔حضرت مولانا صاحب نے فون سنا۔میں نے عرض کیا کہ میری فیملی ربوہ گئی ہے اور ملازم ہمراہ ہے میں نے پتہ کرنا تھا کہ آیا وہ خیریت سے پہنچ گئے ہیں۔اگر آپ کوئی بچہ بھیج کر شیخ نذیر صاحب کے گھر سے پتا کروادیں تو میں بہت مشکور ہوں گا۔حضرت مولانا صاحب نے بڑی شفقت کے ساتھ فرمایا کہ شیخ صاحب میں ابھی خود جا کر پتہ کر کے آپ کو بتاتا ہوں۔میں نے کہا کہ رات بہت ہوگئی ہے اور گھر بھی کچھ فاصلے پر ہے آپ خود تکلیف نہ کریں کسی بچے کو بھجوا کر پتہ کروا دیں تو حضرت مولانا صاحب فرمانے لگے کہ شیخ صاحب آپ جماعت کی خاطر اتنی تکلیفیں اٹھارہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے ؟ چنانچہ آپ آدھی رات کے وقت خود تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر بعد دوبارہ فون کرنے تک آپ خیریت معلوم کر چکے تھے۔آپ نے فرمایا کہ شیخ صاحب میں اُن کے گھر سے پتہ کر کے آیا ہوں۔آپ کی فیملی خیریت سے پہنچ گئی ہے اور ملازم بھی واپس آگیا ہے۔اتنے سے واقعہ سے مجھے بہت تسکین قلب حاصل ہوئی اور یہ احساس ہوا کہ جماعت احمدیہ کے تمام افراد ایک جسم کی مانند ہیں اور باہمی رشتہ اخوت کا یہ عالم ہے کہ ہمارے بزرگوں کو ہماری تکالیف اور کرب کا کس قدر احساس ہے اور آپ کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں شاید آپ ہی کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ اس واقعہ کے تقریبا بیس برس بعد ملازم جو چھوڑنے گیا اس کے بیٹے نے اور پھر خود اُس نے اور اب اُس کی پوری فیملی نے بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کرلی ہے۔الحمد للہ۔