حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 876 of 923

حیاتِ خالد — Page 876

حیات خالد 857 گلدستۂ سیرت تیار شدہ گرما گرم پر انٹھوں کے ساتھ ہمیں ناشتے میں پیش کیا۔شکار کے بارے میں میں نے دیکھا ہے کہ لوگ دوسروں کو کم ہی پیش کرتے ہیں۔بڑی مشکلوں اور محنت سے بڑا فاصلہ پیدل چل چل کر ایک دو چھوٹے چھوٹے پرندے ملتے ہیں لیکن حضرت مولانا نے وہ اسی وقت پکوا کر ہمارے آگے رکھ دیئے۔مکرم مصطفی احمد خان صاحب آف لاہور ابن حضرت نواب عبداللہ خان صاحب 0 مرحوم و مغفور کا بیان ہے:۔علامہ احسان الہی ظہیر صاحب جو غیر احمدی حلقوں میں کتاب ”قادیانیت“ کے مصنف ہونے کے حوالے سے بہت شہرت رکھتے ہیں، سعودی عرب کے تعلیم یافتہ تھے اور پاکستانی علماء میں عربی دانی کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے انہوں نے مجھ سے اس بات کا ذکر کیا کہ میں مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی بہت ہی عزت کرتا ہوں اور ایک عالم دین ہونے اور عربی زبان پر عبور رکھنے کے حوالہ سے ان کی عظمت کا دل سے اعتراف کرتا ہوں۔جب بھی مجھے عربی زبان کے بارہ میں کوئی مشکل پیش آتی تو میں خود ربوہ جا کر ان سے ملاقات کرتا اور اس بارہ میں ان سے راہنمائی لیتا اور ان کے علم سے استفادہ کیا کرتا تھا۔وہ عربی زبان پر بہت عبور اور خوب دسترس رکھتے تھے۔O کر مدامة القيوم شمس صاحب الیہ کرم حافظ بین الحق نفس صاحب مرحوم لکھتی ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ایک دعا گو اور ہمہ جہت عالم بزرگ تھے۔ان سے ہمارے خاندان کا تعلق بہت پرانا ہے۔میرے سر محترم میاں محمد یا مین صاحب تاجر کتب آف قادیان اور میرے خاوند مکرم حافظ مبین الحق صاحب سے مولانا صاحب کا برادرانہ اور مخلصانہ تعلق تھا۔انہوں نے ہمارے مکان واقع دارالعلوم وسطی ربوہ کا سنگ بنیاد دعاؤں کے ساتھ رکھا۔آپ بہت ہمد رو اور ملنسار تھے۔خوابوں کی بہت اچھی اور قابل عمل تعبیریں بتا یا کرتے تھے۔میرا بیٹا عزیزم فخر الحق نفس مربی سلسلہ ۳ ۴۰ سال کا تھا جب حافظ صاحب کو خواب آئی تو وہ سید ھے حضرت مولانا صاحب کے پاس گئے اور انہیں اپنی خواب سنائی۔حضرت مولانا صاحب نے فرمایا صدقہ دو اور اپنے اس بیٹے کو فورا وقف کر دو۔چنانچہ حافظ صاحب نے ایسا ہی کیا۔مکرم حافظ صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے حفظ کے کلاس فیلو تھے یعنی انہوں نے قادیان میں اکٹھے حفظ کیا تھا اس تعلق کی بناء پر حضور حافظ صاحب سے بہت محبت کرتے تھے۔کسی وجہ سے حضور حافظ صاحب کا جنازہ پڑھانے تشریف نہ لا سکے تو حضور نے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کو حافظ صاحب کا جنازہ پڑھانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت مولانا صاحب