حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 856 of 923

حیاتِ خالد — Page 856

حیات خالد 837 گلدسته سیرت آخر پر اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ میرے پیارے اور بے حد شفیق ابا جان کو جنت میں اعلیٰ مقام دے اور ہر دم درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی نیکیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔نیز میری پیاری امی جان دَامَ الْهَا کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی سے نوازے۔آمین۔حضرت مولانا کی بیٹی محترمہ امتہ السمیع را شدہ صاحبہ اہلیہ مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب بیان کرتی ہیں :- میرے میاں کے جرمنی جانے کے چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بیٹی عطا فرمائی جس کا نام عامرہ رکھا گیا۔بچی ابھی چھوٹی ہی تھی کہ سخت بیمار ہو گئی اور علاج معالجہ کے باوجود وفات پاگئی۔جس وقت اس کی وفات ہوئی وہ پیارے ابا جان کے ہاتھوں میں تھی۔بچہ کی وفات کا صدمہ ہر ماں کے لئے بہت شدید ہوتا ہے۔میرے لئے حالات کے لحاظ سے یہ اور بھی مشکل امتحان تھا۔مجھے یاد ہے کہ اس صبر آزما وقت میں میرے پیارے ابا جان نے مجھے ہر حال میں راضی برضا ر ہنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ تم میری بیٹی ہوگی تو اس موقع پر مومنانہ صبر دکھاؤ گی۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے ایسے ہی کیا۔میرے پیارے ابا جان مرحومہ نواسی کا جنازہ اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر گھر سے روانہ ہوئے اور تدفین کے بعد مجھے بہت تسلی دی اور حوصلہ دلایا اور صبر کی تلقین کی۔اب بھی یہ شفقت اور پیار یاد آتا ہے تو آنکھیں آنسو برسانے لگتی ہیں۔محترم مرزا عطاء الرحمن صاحب مرحوم لندن این حضرت مرزا برکت علی صاحب مرحوم اقرباء سے حضرت مولانا کے حسن سلوک کے بارے میں فرماتے ہیں :- حضرت مولانا کے والدین میں نے دیکھے ہوئے تھے۔بہت نیک اور سادہ زندگی بسر کرنے والے بزرگ تھے۔آپ ان کے بہت فرمانبردار خدمت گزار بیٹے تھے۔یہ سب ( با تیں) مجھے آپ کے چھوٹے بھائی مولوی عنایت اللہ صاحب جو میرے کلاس فیلو تھے سنایا کرتے۔آپ کے والد صاحب کی وفات کے بعد آپ کے چھوٹے بھائی حافظ مولوی عبدالغفور صاحب، مولوی عنایت اللہ صاحب جو احمد یہ سکول میں پڑھتے تھے اور بورڈنگ ہاؤس میں رہتے تھے۔آپ ان کا بہت خیال رکھتے تھے اور آپ کا ان پر بہت رعب تھا حالانکہ میں نے کبھی بھی آپ کو ان سے سختی سے پیش آتے ہوئے یا معمولی طور پر جھڑ کئے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا مگر آپ کی علمی قابلیت، تقومی اور روحانیت کی وجہ سے بہت احترام کرتے تھے۔جس میں رعب کے علاوہ محبت کی چاشنی کا بھی بہت اثر