حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 855 of 923

حیاتِ خالد — Page 855

حیات خالد 836 گلدستۂ سیرت الثالث رحمہ اللہ تعالی کا حکم ملا تو ہماری واپسی ہوئی۔میری پہلی بیٹی کا نام حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے از راہ شفقت عطیۃ القیوم تجویز فرمایا تھا۔جب دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو ہم نے یوگنڈا سے بذریعہ ٹیلی گرام اطلاع دی تو حضور اس وقت دوره پر تھے۔ربوہ ہمارے گھر میں باتیں ہونے لگیں کہ ہمیں آدھا نام تو معلوم ہے عطیہ، آگے دوسرا نام کوئی اور ہوگا۔یہ بات حضرت ابا جان نے سن لی تو فور انہس کر فرمانے لگے کہ اس بچی کا نام میں خود رکھوں گا اور رات دعا کرنے کے بعد صبح بتایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ” مریم صدیقہ “ نام رکھا جائے۔اور اگلے روز ہمیں بھی بذریعہ تار اس نام کی اطلاع دی گئی اور اخبار الفضل میں بھی بہت ہی دعاؤں کے ساتھ اعلان دیا کہ خدا تعالی اس بچی کو اسم باسمی بنائے۔آمین۔یہ فخر مجھے ہی حاصل ہے کہ اپنے سارے بچوں میں سے صرف میری ہی بیٹی کا نام خود رکھا ہے۔الحمد لله ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء جب ہم پانچ سال بعد اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ واپس ربوہ پہنچے تو بے حد خوش ہوئے۔استقبال کے لئے فوراً گھر سے باہر تشریف لے آئے اور سب کو بہت پیار کیا۔بچیوں کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ افریقہ سے آئی ہیں رنگ تو ٹھیک ہیں۔اور خوب ہنسے۔" نومبر ۱۹۷۶ء میں ہماری وا پسی ہوئی تھی۔اس وقت کیا معلوم تھا کہ اب صرف چند ماہ ہی ابا جان کے ساتھ ہیں اور وہ مئی ۱۹۷۷ء میں ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔ہم کوئی خدمت نہ کر سکے۔یہ پانچ چھ ماہ کا عرصہ بہت جلد گزرگیا۔آخر تک چلتے پھرتے رہے۔روزانہ دفتر جاتے اور دو پہر کو واپس آتے۔کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اتنی جلدی حضرت ابا جان ہم سے رخصت ہو جائیں گے۔آخری روز بھی دفتر گئے۔سارے کام کر کے گھر آئے۔بس شام کو طبیعت خراب ہوئی۔ہم پاس تھے۔چہرہ پر مسکراہٹ تھی اور بالکل فکر مندی اور پریشانی کے آثار نہ تھے۔میں اور میری چھوٹی بہن اور پیاری امی جان پاس تھیں۔امی جان ذرا گھبرا ئیں تو ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمانے لگے کہ گھبراؤ نہیں اور چہرے پر مسکراہٹ رہی تسلی دیتے رہے۔رات ایک بجے کے قریب اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔خدا تعالی کا فضل واحسان تھا کہ مجھے آخر وقت تک پاس رہنے کی توفیق ملی۔ورنہ پانچ سال باہر رہ کر میں بے حداد اس تھی۔ملاقات تو ہوئی مگر مختصر راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو