حیاتِ خالد — Page 854
حیات خالد 835 گلدستۂ سیرت ایک دفعہ میں رات کو سوگئی اور دودھ نہیں پیا تھا۔خود کپ میں دودھ لائے اور مجھے جگا کر فرمایا کہ صرف دودھ پی لواور پھر سو جاتا۔اللہ اللہ کس قدر محبت اور شفقت تھی اپنے بچوں سے کہ اتنا خیال رکھتے تھے۔بچوں کی کامیابیوں پر بہت خوشی کا اظہار فرماتے تھے۔جب بھی ہم سکول سے نتیجہ سن کر واپس آتے تو آتے ہی کامیابی کا علم پا کر بے حد پیار کرتے اور خوش ہوتے۔ایک بار میں کالج سے بہت سے انعامات لے کر گھر آئی۔سامنے ابا جان تشریف فرما تھے۔مجھے دیکھتے ہی اس قدر پیار کیا اور خوشی سے اپنا بٹوہ کھولا اور کہا کہ آج میں بچڑے کو انعام دوں گا جو بھی میرے بٹوے میں ہوگا اور ساری رقم دے دی اور فوراً مٹھائی بھی منگوائی اور سب کو خوشی سے کھلائی۔ان باتوں سے بہت حوصلہ افزائی ہوتی تھی اور آئندہ پہلے سے بھی زیادہ اچھے نمبر اور انعام لینے کی کوشش کرتے تھے۔میں نے کہیں بچپن میں کہا تھا کہ ابا جان میں نے زندگی وقف کرنی ہے۔میری اس بات کو ایسا یا د رکھا کہ جب میری شادی ایک واقف زندگی سے کر دی تو فرمانے لگے کہ تم نے کہا تھا کہ میں نے زندگی وقف کرنی ہے اس لئے تمہاری شادی واقف زندگی سے کر دی ہے۔بس اب تمہاری بھی زندگی وقف ہے۔خدا تعالی اس وقف کو پورے طور پر نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے حضور سرخروئی عطا کرے۔آمین شادی کے بعد جب مجھے یوگنڈا کے لئے رخصت کیا تو جذبات پر قابو نہ پا کر بڑی ہی رفت اور دعاؤں کے ساتھ گلے لگایا اور بوجھل دل سے رخصت فرمایا۔پھر اس قدر شفقت اور دعاؤں بھرے مخلوط کا سلسلہ جاری رہا جو آج تک میرے پاس ایک یادگار کے طور پر محفوظ ہیں۔۱۹۷۲ء میں یوگنڈا کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔یہاں سے ایشین کو چند دن کے نوٹس پر نکال دیا گیا تھا۔ہم احمدی پاکستانی صرف دو فیملیز رہ گئی تھیں۔ہر طرف خطرہ تھا۔میں نے حضرت ابا جان کو دعا کے لئے سب حالات کا ذکر کرتے ہوئے مخلط لکھا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ عورتیں واپس پاکستان چلی جائیں اور صرف مرد یہاں رہ جائیں۔آپ مجھے مشورہ سے نوازیں اور دعا کے بعد بتائیں کہ کیا کیا جائے ؟ چند ہی روز بعد مجھے ایک بڑا ہی پر شفقت خط موصول ہوا کہ میں سب کے لئے دعا کرتا ہوں اور آپ بالکل آرام سے وہاں رہیں اور یہ دعا خود بھی پڑھیں اور دوسروں کو بھی بتا ئیں کہ ان حالات میں کثرت سے یہ ورد کریں۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانصُرْنَا وَارْحَمْنَا اس کے بعد میں بہت تسلی ہوگئی اور خدا تعالی کے فضل و کرم سے ہم بالکل خیریت سے رہے اور نومبر ۱۹۷۶ ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح