حیاتِ خالد — Page 836
حیات خالد 825 گلدستہ سیرت ابا جان کی طبیعت پسند نہ کرتی تھی کہ ہم بہنیں کالجوں کے تقاریر کے مقابلوں میں شرکت کرنے کے لئے دوسرے شہروں میں جائیں۔کالج میں آنے کے بعد ایسے مقابلوں میں اپنے کالج کی طرف سے باہر جانے کی بات ہوئی تو میں نے اپنی پر و فیسر صاحبان کو اپنے ابا جان کی یہ بات بتائی۔اس پر مکرمہ فرخنده شاه صاحبه پرنسپل جامعہ نصرت نے خود فون پر ابا جان سے بات کی کہ آپ امتہ الرفیق کو اجازت دے دیں۔آپ نے فرمایا صرف سرگودھا یا فیصل آباد جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔رات سے قبل واپس آنا ضروری ہے۔چنانچہ مجھے واپس لانے کے لئے مکرمہ بشری بشیر صاحبہ میرے ساتھ گئیں تا کہ رات کو ہم واپس آجائیں کیونکہ باقی لڑکیاں وہاں دو تین دن ٹھہر رہی تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اول رہی۔میری ساتھی لڑکی سوم رہی۔اس طرح ہم ٹرافی لے کر آئیں۔بعد میں پھر بی اے تک میں تقریر کے لئے جاتی رہی۔ہر دفعہ واپسی پر آپ بے حد خوش ہوتے مگر جب تک گھر نہ پہنچ جاتی آپ سخت فکر مند رہتے۔اگر چہ آپ کو شوق تھا کہ بیٹیاں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔مگر ساتھ ہی آپ فرماتے تھے کہ میں پڑھائی کو ان کی شادی میں روک نہیں بنانا چاہتا۔اسی وجہ سے ایک بہن کی شادی میٹرک کے بعد ہو گئی۔دوسری نے ایف اے کیا۔ایک بہن بی اے میں داخل تھیں کہ شادی ہوگئی۔شادی کا فیصلہ بہت دعا کے بعد فرماتے۔صرف نیکی ہی مد نظر ہوتی۔دولت اور دنیوی قابلیت کی فکر نہ کرتے۔حضرت امام جماعت احمدیہ کے مشورہ ، دعا اور استخارہ پر انحصار تھا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کچی خوا میں دکھاتا اور بہت سے واقعات کی قبل از میں اطلاع دے دیتا۔جب کسی بہن بھائی کی طرف سے خدمت دین کا موقع ملنے کی خبر ملتی تو فرماتے۔آج میری روح خوش ہو گئی ہے۔جب میں نے ایف اے کا امتحان دیا اور سرگودھا بورڈ میں سوم آئی۔دفتر میں ابا جان کو کسی نے اطلاع دی۔فوراً گھر فون کیا کہ آج میں نے وہ سارے اخبار منگوائے ہیں جس جس میں اس کا نام آیا ہے۔گھر واپسی پر مٹھائی وغیرہ لے کر آئے۔ہر کامیابی پر ہمیں انعام وغیر ہ دیتے۔میرے بچپن کی بات ہے ایک تقریری مقابلہ میں اول نہ آئی۔گھر آ کر میں رو رہی تھی کہ مجھے انعام نہیں ملا۔بہت پیار سے اپنے پاس بلایا اور فرمایا۔دیکھو میں روزانہ ہی تقریر میں کرتا ہوں۔مجھے بھی تو انعام نہیں ملتا۔اسی طرح کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے مجھے بہلاتے رہے۔امی جان سے بہت عزت سے مخاطب ہوتے۔بارہا سعیدہ جی کہہ کر بات کرتے اور بہت خیال رکھتے۔سب بیٹیوں کی شادی کے لئے جس قدر ممکن ہوتا دعاؤں کے ساتھ فیصلے کرتے۔والدین کے گھر