حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 825 of 923

حیاتِ خالد — Page 825

حیات خالد 814 گلدستیۂ سیرت 0 دل میں گھر کر لیا ہ مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں : - بہاولپور سے ایک غیر از جماعت نوجوان تحقیق حق کے لئے ربوہ آئے۔ان کا بیان ہے کہ میں ربوہ داخل ہوتے وقت بہت گھبرایا ہوا تھا۔کیونکہ میں نے سن رکھا تھا کہ یہ بڑا پر اسرار شہر ہے لیکن میں نے یہاں پر ایسی کوئی معیوب بات نہیں دیکھی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے بیٹا تمہارے چہرے سے پریشانی کا اظہار ہوتا ہے۔اس نوجوان نے بتایا کہ آپ مجھے ایک ہوٹل میں لے گئے۔میری چائے وغیرہ سے تواضع کی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ تم میرے بیٹے ہو۔گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔جو تحقیق کرنا چاہتے ہو تسلی اور اطمینان کے ساتھ کرو۔وہ نو جوان کہتا ہے کہ اس پر میرا سارا خوف دور ہو گیا اور آپ کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی۔الغرض آپ کی مہمان نوازی تو گویا ضرب المثل بنی ہوئی تھی۔جو مہمان بھی آپ کے ہاں آتا آپ کی ضیافت سے بھر پور حصہ لے کر جاتا۔آپ اکرام ضیف کے سلسلے میں احادیث کا خاص طور پر مطالعہ فرمایا کرتے اور ان کا درس بھی دیا کرتے۔موسم کے مطابق پانی ، شربت، چائے ، فروٹ وغیرہ کا عموماً گھر پر انتظام رکھتے اور دعوتوں کا سلسلہ بھی خوب جاری رہتا۔نہ صرف گھر پر بلکہ دفتر میں بھی چائے کا دور چلتا رہتا۔گرمی کا موسم اور قبل از دو پہر کا وقت تھا جبکہ ماہنامہ الفرقان کی آخری اجنبیوں کی تواضع کا پیاں کتابت کے لئے ، کاتب کو بھجوائی جارہی تھیں نیز کتابت شدہ کا پیاں درستی کے بعد پریس کو بھجوانے کا مرحلہ درپیش تھا۔والد ماجد چار پائی پر بیٹھے اور اپنے سامنے کتب، اخبارات و رسائل پھیلائے اپنے کام میں مصروف تھے۔جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کیسی مصروفیت کا عالم ہوتا ہے اور کسی اور طرف توجہ کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔بیت العطاء کے سامنے سڑک سے ایک گاڑی دو تین مرتبہ گذری اور پھر گھر کے عین سامنے رک گئی۔ایک صاحب بیٹھک میں السلام علیکم کہتے ہوئے داخل ہوئے جنہیں والد ماجد خاکسار اور وہاں موجود میرے بھائی نہیں جانتے تھے۔انہوں نے سب سے پہلے تو یہ مصروفیت دیکھ کر معذرت کی اور پھر کہا کہ وہ اپنے ہمراہیوں سمیت محلہ میں کسی گھر کی تلاش کر رہے ہیں اور ہو سکے تو ان کی رہنمائی کی جائے۔اتفاق سے ہم میں سے کوئی بھی اس گھر سے واقف نہ تھا چنانچہ والد ماجد نے ان سے معذرت کی۔ان صاحب نے اپنے ہمراہیوں سمیت جانے