حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 824 of 923

حیاتِ خالد — Page 824

حیات خالد 813 گلدستۂ سیرت صاحب کی خدمت میں دعا کی درخواست کرنے کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے کمال شفقت سے بعض قیمتی نصائح فرمائیں اور پھر فرمانے لگے آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا تا کہ آپ کو الوداعی پارٹی دی جاتی۔اچھا اب انتظام کر لیتے ہیں۔چنانچہ برادرم عطاء الکریم صاحب کو اسی وقت بعض نمایاں خادمان دین کو بلانے کی ہدایت کی اور عصر کے بعد پر تکلف پارٹی منعقد ہو گئی۔خاکسار نے اس تجربہ کی وجہ سے یا اس شرمندگی کی وجہ سے کہ ہم اپنے استاد کی خدمت کرنے کی بجائے انہیں اس طرح تکلیف دیتے رہتے ہیں۔۱۹۷۵ء میں جب میں کیفیا جا رہا تھا آپ کی خدمت میں اس وقت عرض کیا جب آپ اور ہم لوگ صبح کی سیر سے واپس آئے۔اور اسی روز روانگی تھی۔اس تنگ وقت میں اطلاع دینے پر بڑی ”پر محبت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور اسی وقت باصرار ساتھ لے جا کر چائے پلائی۔۱۹۷۹ء میں جب یہ خاکسار تیسری دفعہ باہر جا رہا تھا تو مجھے وہ شفقت و پیار اور دعاؤں کا خزانہ حاصل نہ ہو سکا۔کیونکہ مولانا اس وقت وفات پاچکے تھے۔اور اس محرومی کا احساس آج بھی اسی طرح ہو رہا ہے جس طرح حضرت مولانا کی وفات کی خبر سن کر ہوا تھا۔محترمہ امتہ الباسط شاہد صاحب لکھتی ہیں۔آپ اکثر یوں بھی کرتے کہ نماز کے لئے جاتے تو واپسی پر جو احباب اور دوست ساتھ ہوتے انہیں چائے کے لئے گھر لئے آتے۔میں نے آپ کا یہ معمول دیکھ کر یہ طریق اختیار کیا کہ آپ کی نماز سے واپسی سے قبل ایک بڑے تھرماس میں چائے تیار کر کے اس کے ساتھ تین چار کپ رکھ کر ٹرے بیٹھک میں رکھ دیتی جب آپ اپنے احباب کے ساتھ واپس آتے تو چائے تیار دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔اپنے گھر واپس جانے لگتی تو از راہ شفقت مجھے فرماتے اب تم جا رہی ہو، ہمیں چائے بنا کر کون دیا کرے گا ؟ مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر حضرت مولانا کی صفت مہمان نوازی کے متعلق لکھتے ہیں :- بیرون ملک جانے والے مبلغین اور فریضہ خدمت دین سے فارغ ہو کر واپس آنے والے مربیان کے اعزاز میں اکثر دعوتوں کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ان مواقع پر مقامی واقفین زندگی دوستوں کو بھی شامل فرماتے۔آنے والے مربیان سے ان کے حالات سنتے اور جانے والے مربیان کو نصائح فرماتے۔