حیاتِ خالد — Page 814
حیات خالد 803 گلدستہ سیرت خیر چائے منگوائی گئی چائے شروع ہوئی۔مجھے علم نہیں تھا کہ حضرت مولوی صاحب کو شوگر ہے۔زیادہ چیزیں میٹھی تھیں اور پھل بھی میٹھا تھا۔فرمایا۔میرے لئے تو کوئی چیز نہیں۔میں بڑا حیران ہوا۔ایک دوست بولے کہ پھر یہ سب کچھ ہمارے لئے ہے۔میری حیرانی کو دیکھ کر میرے کان میں فرمایا بڑے پیارے کہ آج کوئی بات نہیں۔میں نے تو یونہی بات کی ہے۔مگر کسی اور پارٹی میں مہمان کی طبیعت اور خواہش کا ضرور خیال رکھیں۔میں نے ایک ڈبہ نمکین بسکٹوں کا رکھا ہوا تھا۔وہی جلدی سے کھول لیا تو فرمایا بس ! ٹھیک ہے۔محترم مولانا عبد الرحمن انور صاحب لکھتے ہیں :- آپ کی وفات سے تھوڑا عرصہ پیشتر ایک واقعہ پیش آیا جو قابل ذکر معلوم ہوتا ہے۔مکرم مولوی صاحب مغرب کی نماز کے بعد مسجد نصرت سے گھر کی طرف آرہے تھے۔راستہ میں میں آپ کے ساتھ تھا۔الفرقان کے ایک کا تب صاحب بھی ساتھ ساتھ آ رہے تھے۔راستہ میں مکرم مولوی صاحب نے ان کا تب صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔کیا آپ کچھ رقم لینا چاہتے ہیں؟ میں نے بے ساختہ کہا کہ کوئی رقم کسی کو دینے کا ارادہ ہو تو دوسرے کو کیا انکار ہو سکتا ہے۔تو مجھے مخاطب کر کے فرمایا اگر آپ کو کچھ دینا چاہوں تو کیا آپ بھی انکار نہ کریں گے۔میں نے کہا میں بھی انکار نہیں کروں گا۔فورا راستہ میں ہی اپنے بٹوے کو کھول کر اس میں سے ایک روپیہ کا نوٹ نکال کر میری طرف بڑھایا تو میں نے ہاتھ بڑھا کر وہ روپیہ کا نوٹ لے لیا۔مکرم مولوی صاحب بہت خوش تھے میں نے اس جذبہ کی قدر کرتے ہوئے جو مکرم مولوی صاحب میں دیکھا تو اس نوٹ کو تیر کا علیحدہ رکھ لیا جواب تک میرے پاس محفوظ ہے اور اس واقعہ کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ایک نہایت پیارا اور مبنی بر حقیقت قول ہے۔عشق الہی منہ پر و سے ولیاں ایہہ نشانی اس سراپا قول کے مصداق حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا سراپا بھی تھا۔ناک نقشہ یا رنگ تو اللہ تعالی کی دین ہے لیکن اس میں حسن اور نور پھر نا یہ تو انسان کے اپنے اعمال پر منحصر ہے۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی سیرت کا ذکر کرنے والے کئی احباب نے آپ کے سرایا کا نہایت خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔مگر ان سب میں ہی یہ بات قدر مشترک ہے کہ اصل حسن اور خوبصورتی چہرے کی نورانیت اور مسکراہٹ تھی جو حضرت مولانا کے وجود کا گو یا لازمی حصہ تھی۔