حیاتِ خالد — Page 812
حیات خالد 801 گلدسته سیرت جا کر نظر دوڑائی اور واپس آکر دور ہی سے زور سے کہا۔” مطلع صاف ہے، مطلب یہ تھا کہ تا حال وہ لوگ نمودار نہیں ہوئے۔اس پر حضرت مولانا صاحب بے اختیار بڑے زور سے ہنسے۔آپ ہنتے جاتے تھے اور فرماتے مطلع صاف ہے“۔یہ معمولی سا واقعہ ہے۔مگر حضرت مولانا کا بے ساختہ ہنسنا آج تک مجھے یاد ہے۔اور دل پر نقش ہے۔مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب لکھتے ہیں :- تیں مئی ۱۹۷۷ء کو نماز فجر پڑھنے کے بعد جب مسجد سے نکلا تو ایک دوست نے افسردگی کے عالم میں اطلاع دی کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب انتقال فرما گئے۔اس اچانک خبر سے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی غلط خبر مجھے سنا رہا ہے۔میں نے حیرانگی کے عالم میں پھر پوچھا۔کیا واقعی حضرت مولوی صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔اسی وقت خاکسار اپنے محلہ کے بزرگوں کے ہمراہ حضرت مولوی صاحب کے گھر پہنچا تو وہاں کچھ دوستوں کو بیٹھا پایا۔جو حضرت مولوی صاحب کی اچانک المناک وفات کی خبر سنکر جمع ہو گئے تھے۔اس کے بعد شام تک مرد و زن حضرت مولوی صاحب کے چہرہ کی زیارت کرنے اور ان کے لواحقین سے اظہار افسوس کے لئے آتے رہے۔اس دن ہر کوئی مغموم نظر آتا تھا۔ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل سوگوار تھا۔ہر کوئی محسوس کر رہا تھا کہ ہم سے ایک پیارا اور قیمتی وجود جدا ہو گیا ہے جس کا بدل کم از کم ظاہری آنکھوں سے کوئی نظر نہ آتا تھا۔حضرت مولوی صاحب جہاں عمر بھر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے اور اپنی ہر چیز دین حق کی خاطر قربان کر دی وہاں مخلوق کی ہمدردی بھی ان کا محبوب مشغلہ رہی۔دوستوں کے دوست غریبوں کے ہمدرد، چھوٹوں سے پیار کرنے والے اور نو جوانوں کا حوصلہ بڑھانے والے تھے۔انکسار کا مجسمہ تھے لیکن سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے انتہائی غیرت رکھنے والے تھے۔ہنس مکھ چہرہ اور پاکیزہ مذاق سے دوستوں کی مجلس کو رونق عطا فر ماتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کو جب بھی کبھی خاکسار نے ربوہ میں اپنے گھر بلایا ہمیشہ میری دعوت کو قبول فرمایا۔ماہ مئی میں (یعنی جس مہینے کے آخیر میں آپ کی وفات ہوئی ) حضرت مولوی صاحب صبح کی سیر کے بعد میری درخواست پر باوجو د طبیعت کی خرابی کے میرے گھر تشریف لائے۔میں نے نیا کمرہ تعمیر کیا تھا۔اسے دیکھ کر خوش ہوئے اور دعا بھی کی۔حضرت مولوی صاحب کو خاکسار سے محبت تھی۔چنانچہ ایک بار مجھے سیر کے دوران فرمایا کہ رسول