حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 801 of 923

حیاتِ خالد — Page 801

حیات خالد 790 پر سوئی لگا دی گئی ہو اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد سوئی ہٹا لی گئی ہو۔مجھے تو ان کی ساری زندگی ہی اس معلوم ہوتی ہے کہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی ان کی زندگی کی سوئی خدمت دین و احمدیت کے ریکا پر لگا دی گئی اور جب ان کی موت آئی تو گو یاوہ سوئی بنائی گئی۔آخر میں لکھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے بچھڑنے والے بھائی کو جس نے صحیح معنوں میں اور الفاظ کے مفہوم کے عین مطابق ساری زندگی اسلام اور احمدیت کی خدمت میں گزار دی۔بے شمار رحمتوں اور فضلوں کا وارث بنا کر جنت میں بلند درجات عطا کرے اور ہمارا بھی خاتمہ بالخیر فرما دے۔آمین ( الفضل ۲۲ جون ۱۹۷۷ء صفهیم) محترم محمد منظور صادق صاحب ایم اے جو راولپنڈی کے معروف صحافی ہیں انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا:۔محترم مولانا ابو العطاء صاحب جماعت کے ان بزرگوں میں سے تھے جو بلا شبہ صداقت احمدیت کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔آپ ایک قادر الکلام اور فصیح البیان مقرر و خطیب، عالم باعمل، تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والے بزرگ اور نامور مبلغ و مجاہد تھے۔زندگی کا ہر لمحہ اسلام اور احمدیت کے لئے وقف رہا۔وہ خلافت احمدیہ کے فدائی اور جاں نثار تھے اور خلیفہ وقت کی اطاعت اور فرمانبرداری ان کی زندگی کا طرہ امتیاز تھا۔اس کے بعد آپ نے مزید تحریر کیا۔ان کی کس کس خوبی اور کمال کا ذکر کیا جائے وہ بلاشبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے تھے کہ میری جماعت کے لوگ علم و معرفت میں اس قدر ترقی کریں گے کہ سب کا منہ بند کر دیں گے۔سلسلہ کے خلاف جب کبھی اور جہاں کہیں سے کوئی آواز اٹھی حضرت مولانا دشمنوں کا منہ بند کر وا دینے والوں میں ہمیشہ پیش پیش ہوتے۔موت الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ۔ایک عالم کی موت جہان کی موت ہوتی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی وفات سے واقعی ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو صرف اللہ تعالی کے فضل اور اس کے رحم و کرم سے ہی پُر ہوگا۔ہماری یہ عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔(الفضل، ارجون ۱۹۷۷ء صفحه ۴ )