حیاتِ خالد — Page 794
حیات خالد 783 گلدستۂ سیرت پڑھایا کرتے تھے۔حلاوت میں حلاوت اور شیرینی ہوتی تھی۔آپ ربوہ سے رسالہ الفرقان نکالا کرتے تھے۔خاکسار اس رسالہ کا خریدار تھا۔آپ کا انداز تحریر آپ کے انداز تقریر کی طرح منفرد تھا۔اب بھی خواہش ہوتی ہے کہ کاش وہ رسالہ حضرت مولوی صاحب کی یادگار کے طور پر دوبارہ جاری ہو سکے۔وقف عارضی کے دفتر میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔آپ کو کام لینے کا خوب ملکہ حاصل تھا۔ہر فرد کی نفسیات کو خوب سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔چہرہ پر بشاشت ہوتی اور گفتگو پنشین ہوتی تھی۔خاکسار نے آپ کو وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے بھی کام کرتے دیکھا۔اللہ تعالی آپ >> کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین ه مکرم مسعود احمد انہیں صاحب واقف زندگی قادیان دار الامان سے لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم و مغفوران علماء کرام میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے جید بزرگ اساتذہ کرام سے تحصیل علمی کا شرف عطا فرمایا۔ان میں حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ قادیان بھی شامل ہیں۔ماہ ستمبر ۱۹۵۱ء میں خاکسار الفرقان کا ہمیں سالہ خریدار بنا اور جولائی ۱۹۶۱ء سے خاکسار الفرقان کا نمائندہ مقرر ہوا اور ۱۹۵۲ء سے ۱۹۷۷ ء تک حضرت مولوی صاحب کی وفات تک خاکسار ان کا خادم رہا۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے درجات بلند سے بلند تر فرماتا رہے اور آپ کی اولاد کو آپ کا صحیح جانشین بنائے۔آمین وو 0 محترم محمود احمد چیمہ صاحب سابق امیر ومر بی انچارج انڈو نیشیا تحریر فرماتے ہیں:- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم و مغفور کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "خالد" کا خطاب دیا تھا۔یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کے مقابل پر خاکسار ا گر آپ کی کوئی خوبی بیان کرے تو اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے سورج کی روشنی کے سامنے چراغ رکھ دیا جائے۔حضرت مولانا مرحوم و مغفور عالم با عمل متقی و پرہیز گار اور شریعت کے سب حکموں پر چلنے والے تھے، اپنے فرائض منصبی کو نہایت عمدگی سے ادا کرتے تھے، ہر چھوٹے بڑے سے نہایت محبت و پیار سے پیش آتے تھے، روحانی اور جسمانی صفائی کا پورا خیال رکھتے تھے اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والے تھے۔قادیان کے مضافات میں خاکسار کو ایک دفعہ آپ کا مناظرہ سننے کا موقع ملا۔جس میں انہوں