حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 771 of 923

حیاتِ خالد — Page 771

حیات خالد 760 بعد فرمانے لگے ، یہ خواب بہت مبارک ہے۔یہ بات تین دفعہ کہی اور مسکراتے رہے۔گلدی حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو قادیان سے ایک قلبی لگاؤ تھا۔قادیان سے محبت آپ نثر نگار تھے لیکن آپ کی ایک دو نظموں میں سے ایک قادیان کے متعلق ہے جو اس کتاب میں شامل ہے۔علاوہ ازیں مختلف مضامین کی صورت میں قادیان کے بارے میں آپ کے تاثرات شائع شدہ ہیں ان میں سے ایک مضمون ”قادیان میں ڈیزل کار کی آمد الفضل ۱۹ مئی ۱۹۳۹ء میں شائع شدہ ہے۔اہل قادیان اور درویشان قادیان سے آپ کی غیر معمولی محبت کا اظہار اس طرح بھی ہوتا ہے کہ قادیان سے آنے والوں سے آپ کے خصوصی مراسم قائم تھے۔درویشان سے ایک خاص تعلق اور محبت آپ کی زندگی کا ایک خاص حصہ ہے۔قادیان کے بارے میں چند تاثرات درج ذیل ہیں۔مکرم محمد کریم الدین شاہد صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان تحریر فرماتے ہیں :- میں نے محترم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو زمانہ طالب علمی میں کئی مرتبہ قادیان تشریف لاتے ہوئے اور جلسہ سالانہ کے موقع پر تقاریر کرتے ہوئے، نیز کئی دفعہ ماہ رمضان میں درس قرآن و حدیث دیتے ہوئے دیکھا ہے۔آپ متعدد مرتبہ ماہ رمضان سے استفادہ کے لئے مرکز قا دیان تشریف لائے۔خاکسار اس وقت مدرسہ احمدیہ میں زیر تعلیم تھا مہمان خانہ میں جب بھی آپ سے ملاقات کے لئے جاتا نہایت شفقت اور پیار سے پیش آتے۔اپنے زمانہ طالب علمی کے کئی واقعات سناتے تا کہ ہم جیسے اونی طلباء میں ہمت و حوصلہ اور خدمت سلسلہ کا جذبہ پیدا فرما ئیں۔آپ اپنے واقعات بیان کر کے خاکسار کو بھی تحریک فرماتے کہ کچھ نہ کچھ مضمون ضرور لکھتے رہنا چاہئے۔اس سے مطالعہ میں وسعت اور علم میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ نسلوں کی تربیت ان کے علمی معیار کو بڑھانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا کس قدر جذ بہ آپ کے قلب صافی میں موجزن تھا۔ایک مرتبہ آپ رمضان گذار نے قادیان تشریف لائے۔ان دنوں آموں کا موسم تھا۔عصر کی نماز کے بعد آپ دعا کرنے بہشتی مقبرہ میں تشریف لے گئے۔خاکسار بھی آپ کے ساتھ تھا۔آپ نے باغ سے کچھ آم خریدے۔اس میں سے خاکسار کو بھی حصہ دیا۔اور یہاں کے ایک بزرگ درویش محترم سید غلام جیلانی صاحب مرحوم جوا کیلے رہتے تھے، انہیں بھی ایک رومال میں آم باندھ کر خاکسار کے