حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 757 of 923

حیاتِ خالد — Page 757

حیات خالد 746 گلدستۂ سیرت مکرم منظور صادق صاحب جو کہ راولپنڈی کے شہری حلقوں میں معروف صحافی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، لکھتے ہیں :- حضرت مولوی صاحب تعلیم الاسلام کالج میں ہمارے استاد بھی تھے اور ہمیں دینیات پڑھاتے تھے۔اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کا سلوک نہایت مشفقانہ اور پدرانہ ہوتا تھا۔کبھی کسی سے سختی نہ کرتے اور کسی طالب علم سے کوئی غلطی ہو جاتی تو اس سے چشم پوشی کرتے اور زبانی وعظ و نصیحت پر ہی اکتفا کرتے“۔ه مکرم سلطان اکبر صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولا نا فرمایا کرتے تھے کہ میرے اساتذہ کرام میں سے صرف حضرت میر قاسم علی صاحب مرحوم ایسے استاد تھے جو کہ طالب علموں کے کثرت سوالات سے ہرگز نہ چڑتے تھے بلکہ ہر طالب علم کی تسلی اور اطمینان کے لئے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیتے تھے ورنہ اکثر اساتذہ ایک دو سوالات کے بعد طالب علموں کی طرف سے مزید سوالات کرنے کو نا پسند کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے خود حضرت مولانا مرحوم میں یہ بات دیکھی کہ خندہ پیشانی والا وصف آپ میں بدرجہ اتم موجود تھا۔سوالوں کی کثرت سے نہ گھبراتے۔آپ کا چہرہ ہمیشہ مسکراتا اور تمتماتا ہوا میں نے پایا۔ہر طالب علم آپ سے بے تکلف تھا اور دل سے آپ کا احترام کرنے والا اور آپ سے محبت کرنے والا ہوتا تھا۔آپ اپنے شاگردوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے۔حالانکہ آپ بہت معمور الاوقات تھے۔ایک دفعہ ہمارے ایک ساتھی طالب علم مکرم مرزا عبدالحق صاحب آف فتح پور گجرات کی شادی قرار پائی۔اس طالب علم کی خوشی کی خاطر آپ نے احمد نگر سے گجرات رات بھر سفر کر کے اور پھر یکہ پر آٹھ دس میل کچا راستہ طے کر کے فتح پور جا کر شادی میں شرکت اختیار کی۔اور دو تین گھنٹہ وہاں قیام کے بعد فوراً احمدنگر واپسی کا سفر اختیار کیا اور پھر راتوں رات سفر کر کے واپس آگئے۔میں بھی شریک سفر تھا۔رات گیارہ بجے لالہ موسی اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار چند گھنٹے کرنا تھا۔آپ زمین پر ہی کمبل بچھا کر لیٹ گئے۔میں نے اجازت لے کر آپ کو دبانا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ آپ اپنے بعض واقعات بھی مجھے سناتے جاتے تھے۔جن میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ نے فرمایا۔میرے والد صاحب مرحوم کی بڑی خواہش تھی کہ میرا بیٹا دینی علم پڑھ کر مولوی ثناء اللہ امرتسری سے بھی مناظرہ کرے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں نے مولوی صاحب مذکور سے والد صاحب مرحوم کی زندگی میں کامیاب مناظرہ کیا۔الحمد للہ۔