حیاتِ خالد — Page 745
حیات خالد 734 گلدسته سیرت محترم چوہدری عطاء اللہ صاحب مرحوم سابق پروفیسر ٹی آئی کالج ربوہ و سابق نائب ناظر بیت المال ربوہ تحریر فرماتے ہیں :- حضرت مولانا ابو العطاء صاحب مذہبی مسائل کے جواب دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔اس قسم کے کسی سائل کو ذرہ بھر بھی مشکل سے دو چار ہونا نہیں پڑتا تھا۔سائل خواہ غریب ہو یا با حیثیت ہو، اس کا یکساں احترام فرماتے اور نہایت تحمل، نرم گفتاری اور سادہ الفاظ میں اس کا جواب دیتے تا کہ اسے سمجھنے میں دشواری محسوس نہ ہو۔جن ایام میں آپ تعلیم الاسلام کالج میں دینیات کے پروفیسر تھے یہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی پرنسپل شپ کا دور تھا) ان دنوں مجھے زیادہ قریب سے آپ کو دیکھنے کا موقع ملا۔ان کا ایک واقعہ یوں ہے کہ ہمارے کالج سٹاف کے بہت سے احباب کو کھوال ضلع فیصل آباد میں ایک دوست کی دعوت پر سیر و تفریح کی خاطر گئے۔جن میں حضرت مولوی صاحب بھی شامل تھے۔صبح ہمارے ناشتہ کا اہتمام پکا انا سکول کی گراؤنڈ میں تھا اور سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب میز بانی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔وہ بزرگ آدمی تھے ریٹائرمنٹ کے قریب تھے۔محترم پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب مرحوم، محترم چوہدری صلاح الدین صاحب مرحوم مشیر قانونی اور کالج سٹاف کے دیگر اساتذہ کھانے کی میز پر تھے۔وہاں یہ بات چل نکلی کہ ہمارے میزبان ہیڈ ماسٹر صاحب جن کا نام غالباً سعید احمد تھا وہ باوجود مسلمان ہونے کے خدا کی ہستی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ میرے مقابلے میں آج تک کوئی نہیں ٹھہر سکا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے ان کی گفتگو شروع ہوئی۔ابھی یہ مشکل دس منٹ گذرے ہوں گے کہ ہم نے حیرانگی سے یہ سنا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب موصوف پکار اٹھے میری زندگی میں یہ پہلا شخص ہے جس نے مجھے ایسے گھیرے میں لیا ہے کہ میں بے بس ہو کر رہ گیا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی صاحب کو علمی، عقلی، منطقی اور فکری استدلال کا عظیم ملکہ عطا فرمایا ہوا تھا۔ان کو اپنے موضوعات پر کامل عبور ہوتا تھا۔ایک موقعہ پر خاکسار نے ان سے استدعا کی کہ کالج ہال میں طلباء کوسوالات کا موقع دیا جائے۔اور آپ ان کے جوابات عطاء فرمائیں اور یہ سوال و جواب کیسٹ پر محفوظ کر لئے جائیں۔آپ نے یہ پیشکش قبول فرمالی۔چنانچہ خاکسار نے کیسٹ کا اہتمام کیا اور جوابات محفوظ کر لئے گئے۔یہ میٹنگ بہت کامیاب رہی۔یہ کیسٹ مکرم محمد رمضان صاحب مرحوم ( والد ماسٹر محمد اعظم صاحب) کی فرمائش پر ان کو دے دی گئی شاید ان کے کسی عزیز کے پاس محفوظ ہوگی۔