حیاتِ خالد — Page 744
حیات خالد 733 گلدستۂ سیرت آپ کو طلباء کی صحت کا ہمیشہ خیال رہتا۔چنانچہ طلباء کو کھیلوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی خاطر خودان کے ساتھ والی بال کھیلا کرتے اس کے علاوہ صبح کی سیر آپ کا معمول تھا۔تقسیم ہندو پاک کے بعد پہلے جامعہ احمد یہ کچھ عرصہ چنیوٹ میں رہا۔اس کے بعد جامعہ احمدیہ احمد نگر منتقل ہو گیا۔یہ ۱۹۴۸ء کی بات ہے ان ایام میں گندم کی بہت تکلیف تھی اور طلباء کے کھانے کے لئے آٹا اور گندم مہیا کرنا بہت مشکل تھا۔چنانچہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حضرت مولانا نے مجھے اور مکرم مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب کو گوجرانوالا بھیجا تا کہ وہاں سے گندم لائیں۔ان دنوں گندم کی بین الاضلاعی نقل و حرکت پر پابندی تھی اور خصوصی اجازت کے ساتھ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں گندم لے جائی جا سکتی تھی۔ہم نے گندم تو خرید لی مگر اسے ضلع گوجرانوالا سے ضلع جھنگ لانے کی اجازت باوجود کوشش کے نہ مل سکی نا چار گندم بیچنا پڑی اگر چہ ہمیں اس میں فائدہ ہی ہوا اور سترہ روپے من خرید کر وہ گندم اکیس روپے میں بک گئی۔حضرت مولانا کو بتایا گیا تو آپ نے پھر کوشش کی اور اس بار اونچے مانگٹ ضلع گوا جرانوالا سے گندم خریدی گئی۔مکرم منشی عبد الخالق صاحب رضی اللہ عنہ میرے ساتھ گئے۔اس دفعہ ہمیں اجازت مل گئی۔چنانچہ ہم گندم پہلے چنیوٹ لائے وہاں سے چھکڑوں کے ذریعے احمد نگر لائے۔اور یوں طلباء کی ضرورت پوری ہو سکی۔یہ تفاصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک تو پارٹیشن ر کے بعد کی ابتدائی مشکلات پر روشنی پڑ سکے اور دوسرے یہ کہ حضرت مولانا نے اس مشکل وقت طلباء ہی کی مدد سے کس طرح صورت حال کو سمبھالے رکھا اور جماعتی ذرائع پر بوجھ نہ ڈالا۔فی الحقیقت قادیان سے ہجرت کے بعد احمد نگر اور چنیوٹ اور پھر ربوہ میں جس طرح آباد کاری ہوئی وہ عزم و ہمت اور حوصلے کی ایک درخشاں مثال ہے۔جس میں بحیثیت ایک حوصلہ مند منتظم کے حضرت مولانا کا کردار مثالی رہا۔جن دنوں جامعہ احمد یہ احمد نگر میں جاری تھا تو ان دنوں دریائے چناب کے پلوں پر کبوتر بہت ہوا کرتے تھے۔ہم چند طلباء رات کو وہاں پر جاتے اور کیوتر پکڑ کر لایا کرتے تھے۔ایک رات حضرت مولانا کو اس کا علم ہو گیا۔آپ نے ہمیں بڑے پیار اور محبت سے سمجھایا کہ اجازت لے کر ایسا کام کیا کریں۔بغیر اجازت اچھا نہیں۔ایسی حرکات پر طلباء کوکنتی سے باز پرس کرنا اور ان کو سزا د یا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں کبھی جاتی تھی۔انوکھی بات تو شاید یہی ہے کہ طلباء کو ان کی ایک خطا پر بڑے پیار اور محبت سے سمجھا کر روک دیا اور غلطی پر چشم پوشی اور بڑی شفقت کا اظہار جاری رکھا۔