حیاتِ خالد — Page 742
حیات خالد 731 گلدستۂ سیرت شام تک اس کلاس کو تمام اسباق دیتے۔ہمیں نوٹ لکھواتے اور بعض مذاہب کے بارے میں مثلاً آریہ دھرم کے بارے میں اور اسی طرف وفات مسیح اور آیت خاتم النبین کے بارے میں نوٹس لکھواتے۔مولوی صاحب آہستہ آہستہ بولتے تھے اور ہم لکھتے جاتے تھے۔میرے علاوہ اس کلاس میں مکرم عبدالحمید صاحب عاجز بھی تھے جو قادیان میں ناظر ہیں۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور ان کے بھائی شریف احمد صاحب باجوہ بھی شامل ہوا کرتے تھے۔عصر کے بعد مولوی صاحب قرآن مجید کا درس دیتے اور یہ درس بھی اس کلاس کی تعلیم کا حصہ ہوتا تھا۔ایک مہینہ تک یہ کلاس چلتی تھی۔مولوی صاحب اکیلے ہی درس دیتے تھے۔صبح کلاس بھی لیتے تھے اور نوٹ بھی لکھواتے تھے۔بعد میں مولوی صاحب نے غالباً ہمارا امتحان بھی لیا تھا۔بیچ میں دو تین دن کے لئے مولوی صاحب کو باہر جانا پڑا۔ان بعد کسی اور دوست نے مولوی صاحب کی بجائے درس دیا لیکن مولوی صاحب کے درس کا جو مزا ہمیں پڑا ہوا تھا وہ ہمیں متبادل دوست کے درس میں نہ آیا۔پھر مولوی صاحب آ گئے اور ان کا درس دوبارہ شروع ہوا تو ہمیں اس بات کا اور زیادہ احساس ہوا۔کے 0 محترم قریشی محمد عبد اللہ صاحب آڈیٹر صد را مجمن احمد یہ فرماتے ہیں :- آپ علم کا ایک وسیع سمندر تھے۔نماز فجر کے بعد محلہ دارالرحمت وسطی ربوہ کی مسجد نصرت میں قرآن مجید اور حدیث کا درس ہوتا۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ نہ تو تفسیر کی جلد مالتی اور نہ حدیث کی کتاب کہ اوپر سے پڑھ کر درس دیا جا سکے۔ایسے مواقع پر جب بھی خاکسار نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں درس دینے کے لئے عرض کیا تو آپ فورا ہی نہایت موثر رنگ میں زبانی درس دے کر جملہ احباب کی روحانی تشنگی کو دور فرما دیتے“۔ه محترم شیخ نور احمد صاحب منیر لکھتے ہیں :- " مولانا کا درس القرآن خالصہ علمی ہوتا۔قرآنی مفردات اور مجازات و استعارات کی لغوی تحقیق بیان فرماتے۔قصص القرآن پر اختصار سے روشنی ڈالتے۔قرآنی احکام کے فلسفہ کو موثر انداز میں پیش فرماتے اور قرآنی تعلیمات کو وعظ و تلقین کے انداز میں سامعین کے سامنے رکھتے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفائے احمدیت کی بیان کردہ تفاسیر کے اقتباسات پیش فرماتے۔دوسری تفاسیر کے حوالوں سے اپنے درس کو مزین فرماتے۔مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات اختصار سے سامعین کو بتاتے۔عیسائیوں نے قرآن مجید کی آیات پر جو صرفی اور نحوی