حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 740 of 923

حیاتِ خالد — Page 740

حیات خالد 729 گلدسته سیرت شروع ہو گئے۔میں نے بہت زور لگایا کہ مولوی صاحب آپ سائیکل پر جائیں۔میں آرام آرام سے جاؤں گا۔لیکن جب تک ہمارے راستے جدا نہیں ہو گئے یا میرا گھر نہیں آ گیا آپ میرے ساتھ پیدل چلتے رہے۔ایسا متعدد بار ہوا۔ویسے تو حضرت والد صاحب کے سب شاگردان رشید حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب مولانا ظہور حسین صاحب سابق مبلغ روس و بخارا ، مولانا قمر الدین صاحب اور مولانا غلام حسین ایاز صاحب ( اللہ کی رحمتیں سب پر ہوں ) سب ہی بہت محبت اور احترام سے والد صاحب سے ملتے تھے مگر حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کا رنگ اور ہی تھا۔محترم میاں محمد ابراہیم صاحب مرحوم سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ اور سابق مبلغ سلسلہ امریکہ تحریر فرماتے ہیں۔حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری کو مجھے ایک عرصہ سے جاننے کی سعادت حاصل رہی ہے۔انہوں نے مولوی فاضل کرنے اور سلسلہ کا مشہور مبلغ بن جانے کے بعد انگریزی میں میٹرک پاس کیا تو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں CASUAL طالب علم کے طور پر کلاس میں میرا انگریزی کا پیریڈ اٹنڈ کرتے رہے اور باوجود عالم فاضل اور جماعت کے معروف مبلغ ہونے کے جنہیں اندرون اور بیرون ممالک میں تبلیغ کے میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہو چکی تھی ، خاکسار کے ساتھ نہایت محبت سے پیش آتے رہے۔میں نے ان کے ایف۔اے کرنے میں بھی اپنی طرف سے عقیدت سے مدد کی اور میری اس خدمت کو مولانا نے باوجود اپنی لائین میں بہترین فرد ہونے کے بڑی مروت اور شکر گذاری کے جذبہ سے یاد رکھا۔بعد میں وہ مجھے کبھی خط لکھتے تو استاذی المکرم کے لقب سے سرفراز فرماتے۔ذرہ نوازی اور شکر گزاری آپ کے اخلاق حسنہ کا منفرد جزو تھا۔استاد اور شاگرد کے متعلق دینی اقدار کو اپنا نا حضرت مولانا کی خاص صفت تھی۔میرے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ابتدائی ایام میں حضرت مولانا نے میٹرک کا امتحان دینا تھا اس مقصد کے لئے وہ میری با قاعدہ کلاس میں ایک عام طالب علم کے طور پر شامل ہوتے۔یہ امر میرے لئے انتہائی عزت و شرف کا باعث ہوتا۔کلاس کا وقت شروع ہونے پر جب میں بحیثیت استاد انگریزی پڑھانے کے لئے کلاس میں داخل ہوتا تو حضرت مولانا مجھے اسی اعزاز اور احترام سے نواز تے جو عام طالب علم استاد کے لئے روا ر کھتا ہے اور اس بارے میں کبھی بھی آپ نے کسی قسم کی