حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 739 of 923

حیاتِ خالد — Page 739

حیات خالد 728 گلدستۂ سیرت محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب سابق نائب امام مسجد فضل لندن ہیں اور کئی سال سے امیر جماعت احمد یہ گھانا کے فرائض بحسن و خوبی بجالا رہے ہیں۔آپ لکھتے ہیں :- طالب علمی کے زمانہ میں بہت سے مواقع پر حضرت مولانا مرحوم کی نقار یہ سننے کا موقع ملا اور خاص طور پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مختلف مواقع پر جب منافقین کے فتنے اٹھے تو ان ایام میں یہی محسوس ہوتا تھا کہ حضرت مولانا کی تقاریر مدلل اور سلیس ہونے کے علاوہ ان کے الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکلتے تھے اور سننے والے کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔چنانچہ آپ کی دیگر خصوصیات کے علاوہ خطابت بھی وہ اہم خصوصیت تھی جس کی وجہ سے حضرت مصلح موعود نے آپ کو ” خالد جیسے عظیم خطاب سے نوازا۔اساتذہ سے حسن سلوک محترم مرزا عطاء الرحمن صاحب کے والد محترم مرزا برکت علی صاحب حضرت مولانا کے استاذ تھے۔محترم مرزا صاحب اپنے والد محترم کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:- حضرت مولانا کے دل میں اپنے اساتذہ کا بہت محبت بھرا احترام تھا۔میرے والد محترم مرزا برکت علی صاحب بھی آپ کے مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ میں سے تھے۔اس کی چند ایک مثالیں پیش کرتا ہوں۔قادیان شریف میں مسجد نور کے امام حضرت ماسٹر محمد طفیل خان صاحب تھے۔والد صاحب اکثر نمازیں مسجد مبارک میں ادا کر تے تھے۔کبھی کبھار کوئی نماز اپنے محلہ دارالعلوم کی مسجد نور" میں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ گرمیوں میں ظہر کی نماز میں امام صاحب نہ آئے۔تو نمازیوں نے مولانا صاحب سے پرزور گذارش کی کہ آپ نماز پڑھا دیں۔آپ دائیں کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ امامت کرانے کے لئے اٹھے اور امامت کے لئے آگے جا رہے تھے کہ راستے میں دیکھا کہ میرے والد صاحب بھی صف میں کھڑے ہیں۔آپ نے والد صاحب کے کندھوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر آرام سے آگے کر کے کہا کہ بھائی جی! آپ نماز پڑھائیں۔صرف یہی نہیں بلکہ والد صاحب نے کئی دفعہ گھر آ کر بڑے محبت بھرے الفاظ میں کہا کہ مولوی صاحب ( حضرت مولانا صاحب) اپنا استاد ہونے کی وجہ سے مجھ سے اتنا محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ میرا کوئی عزیز بھی ایسا نہ کر سکے۔ایک دفعہ بتایا کہ میں پیدل آ رہا تھا تو پیچھے سے مولوی ابو العطاء صاحب سائیکل پر آئے اور میرے پاس آکر اتر گئے اور سلام و مصافحہ کے بعد میرے ساتھ پیدل چلنا