حیاتِ خالد — Page 73
حیات خالد 77 اساتذہ کرام ہے۔مگر حضرت میر صاحب کی وقت کی قدر شناسی کا اندازہ بعد کے حالات سے ہوا ہے۔حضرت میر صاحب کو غرباء، یتامی اور محتاجوں سے بہت انس و پیار تھا عملی زندگی کے ہر پہلو سے اس جذ بہ کا پھوٹ پھوٹ کر اظہار ہوتا تھا۔دار الشیوخ تو اس کی ایک نمایاں اور منہ بولتی تصویر تھی مگر اس کے علاوہ بھی اس کے متعدد پہلو تھے جن میں سے بعض کا تذکرہ ماہنامہ الفرقان کے اس خاص نمبر کے مختلف مضامین میں موجود ہے۔حضرت میر صاحب کے تو کل علی اللہ کی بے شمار مثالیں ہیں ان کی ساری زندگی ہی منتو کلا نہ تھی۔میں کبھی اس بات کو بھول نہیں سکتا کہ جب ۱۹۲۷ء میں فتنہ مستریاں زوروں پر تھا تو ان لوگوں نے ایک دو ناروا باتیں حضرت میر صاحب کے متعلق بھی شائع کیں۔میں نے جوش غیرت میں حضرت میر صاحب کے پاس جا کر ان باتوں کے لئے تردیدی بیان کی ضرورت ظاہر کی تا کہ اسے شائع کر دیا جائے۔آپ نے فرمایا کہ بہت اچھا میں کل جواب لکھ دوں گا۔دوسرے دن جب کہ آپ ابھی جامعہ احمدیہ سے واپس آرہے تھے میں گھر کے قریب مل گیا۔فرمانے لگے میں ابھی اندر سے لکھ کر لاتا ہوں۔میرا خیال تھا کہ لمبا چوڑا بیان ہو گا مگر چند منٹ کے بعد آپ باہر آئے اور مجھے ایک کاغذ دیگر فرمایا کہ میرا یہی جواب ہے۔اس پر صرف یہ آیت تحریرتقی و افوضُ أَمْرِي إِلَى اللهِ إِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بالْعِبَادِ نیچے دستخط تھے اور تاریخ درج تھی۔مجھے اس زمانہ کے جوش جوانی کے ماتحت اس پر تعجب ہوا۔مگر جب غور کیا تو اس سے بہتر جواب نہ تھا اور فی الواقع ثابت ہو گیا کہ جس طرح انہوں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خود معاندین کو جواب دیا تھا۔حضرت میر صاحب کی زندگی میں ایک نمایاں امتیاز یہ تھا کہ جس بات کو آپ صحیح اور درست سمجھتے تھے اسے ہر موقعہ پر اور ہر قیمت پر کہتے تھے اور اس بارے میں انہوں نے تکلیف اٹھا کر بھی کلمہ حق کہنے کی متعد د مثالیں قائم کی ہیں۔یہ صرف سلف صالحین اور علما ءور بانی کا شیوہ ہے۔آپ اس حق گوئی کا سبق اپنے شاگردوں کو بھی دیتے تھے۔حضرت میر صاحب اس جرات و بیا کا نہ حق گوئی کے ساتھ ساتھ ہر شخص کا ادب و احترام بھی اس کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ہمیشہ مد نظر رکھتے تھے۔دین کی خدمت ان کا دن رات کا دل پسند مشغلہ تھا۔اس میں بیماری اور ضعف بھی کبھی آپ کے سد راہ نہیں ہوئے۔۱۹۳۰ء کے مخرجین کے فتنہ میں آپ نے جس دلیرانہ ہمت اور جانفشانی سے کام کیا تھا وہ ہمیشہ تعریف سے یاد کیا جائے گا۔سلسلہ کی تاریخ میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب ایک زندہ جاوید