حیاتِ خالد — Page 728
حیات خالد 717 گلدستۂ سیرت آپ نے جو کہا وہی کر دکھایا۔میرے میاں کے جانے کے بعد آپ نے قدم قدم پر ہمارا خیال رکھا۔آتے جاتے ہمارا خیال رکھتے۔پھر جب ہم اپنے نئے کوارٹر میں منتقل ہوئے تو آپ دفتر سے روزانہ ہی ہمارے گھر سے ہو کر جاتے۔کچھ دیر بیٹھتے پوچھتے کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔پھر ایک مددگار کارکن کا بندوبست کیا کہ روزانہ سودا سلف لا دیا کرے۔جب بھی روپوں کی ضرورت پڑی دفتر لکھ کر بھیج دیتی آپ اسی وقت رقم مہیا فرما دیتے۔بیٹی بیمار ہوئی تو بار بار کار اور تانگے کا بندوبست فرماتے رہے۔ہسپتال اور ڈاکٹروں کے پاس خود لے کر جاتے رہے۔گو ان دنوں طبیعت اچھی نہیں تھی مگر آپ نے اپنی طبیعت کی کبھی اس ضمن میں پرواہ نہ کی۔فجزاه الله احسن الجزاء بمکرم عطاءالکریم شاہد صاحب لکھتے ہیں۔ہمہ تن اور بے لوث خدمت دین آپ کی پاکیزہ زندگی کا سب سے جلی عنوان ہے۔آپ ماہنامہ الفرقان ملک بھر کے منتخب دینی و سیاسی اخبارات ہفت روزہ اور ماہانہ رسالوں کو بغرض تبادلہ بھجواتے۔چنانچہ ان کی ایک معقول تعداد آپ کے نام آتی جنہیں آپ مطالعہ کرتے اور ضروری اور اہم نکات پر ماہنامہ الفرقان میں تبصرہ بعنوان شذرات وغیرہ درج فرما کر دنیا بھر کے قارئین الفرقان کو اس میں شریک فرماتے۔خطابت احمدیت کے قابل صد احترام فرزند حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوں تو بے شمار صلاحیتوں سے خوب مالا مال کیا تھا اور حضرت مولانا کی صلاحیتوں کا ذکر شروع کیا جائے تو ہر گلے را رنگ و ہوئے دیگر است والا معاملہ ہو جاتا ہے۔تا ہم آپ کا فن خطابت آپ کی صلاحیتوں کا ایک نمایاں اور غیر معمولی وصف تھا۔آج بھی آپ کی تقاریر سننے والوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔حضرت مولانا کے فن خطابت کا خوبصورت ترین اور جامع ترین نقشہ ہفت روزہ لاہور کے جادو قلم ایڈیٹر جناب ثاقب زیروی صاحب نے کھینچا اور اس انداز سے چند لفظوں میں بات سمیٹ دی کہ گو یا کوزے میں دریا بند کر دیا۔