حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 722 of 923

حیاتِ خالد — Page 722

حیات خالد 711 گلدستۂ سیرت کے آپ کبھی درس نہ دیا کرتے تھے ایک دفعہ میں نے ایسے ہی کہہ دیا کہ ابا جان آپ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے علوم سے حصہ وافر عطاء کیا ہے۔آپ ہر دفعہ تیاری کیوں کرتے ہیں۔کہنے لگے کیا پتہ ہے کہ اس دفعہ اللہ تعالیٰ کوئی اور نکتہ سمجھا دے اس لئے ہر دفعہ پوری تیاری کر کے جانا ضروری ہے۔قرآن پاک علموں کا خزانہ ہے اس کو جتنی دفعہ زیادہ پڑھا جائے اتنا ہی علم بڑھتا ہے اور اس کے فضائل واضح ہوتے ہیں۔آپ نے اپنی بیٹھک میں یہ شعر لکڑی کی ایک تختی پر عمدہ رنگ میں لکھوا کر لگوایا ہوا تھا تا کہ اس پر نظر پڑتی رہے اور اپنے فرض کی طرف توجہ رہے۔یہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا شعر ہے۔اے بے خبر به خدمت فرقاں کمر بند زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نماند (یعنی اے بے خبر خدمت قرآن پر کمر باندھ لے۔اس سے پیشتر کہ یہ آواز آ جائے کہ تو اب زندہ نہیں رہا ) یہ شعر آپ نے ماہنامہ الفرقان کے ٹائیل پیچ پر بھی مستقل لکھوایا ہوا تھا۔آپ کے عشق قرآن پر اس شعر کے مسلسل اور متواتر استعمال سے خوب روشنی پڑتی ہے۔رسالہ الفرقان میں ۱۹۵۴ء سے آپ نے ترجمہ قرآن پاک شائع کرنا شروع فرما دیا تھا اور قریباً و پارے سے زیادہ ترجمہ معہ تفسیری نوٹس شائع ہو گیا تھا۔مگر یہ کام مکمل نہ ہو سکا۔محترم مولانا بشیر احمد صاحب قمر لکھتے ہیں :- احمد نگر میں آپ کا رہائشی مکان میری رہائش اور مسجد کے درمیان تھا۔میں اکثر وہاں سے گذرتے ہوئے آپ کو تلاوت قرآن پاک کرتے ہوئے سنا۔کبھی نماز فجر سے پہلے اور کبھی بعد۔کبھی عصر سے پہلے اور کبھی بعد۔معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی دوسری مصروفیات سے آپ کو فراغت ملتی آپ قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف ہو جاتے۔گویا فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ وَإِلَى رَبِّكَ فَارُغَبُ پر کار بند تھے۔آپ کی پر سوز آواز سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ عاشق قرآن ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ آپ جب تقریر کے لئے کھڑے ہوتے تو تشہد وتعوذ کے بعد اس موقع و محل کی مناسبت سے قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کرتے اور اپنے مقاصد کی تائید میں اس سے استدلال فرماتے۔گویا اس طرح یہ بتاتے کہ قرآن کریم میں ہماری تمام دینی ، اخلاقی اور روحانی ضرورتوں کے