حیاتِ خالد — Page 715
حیات خالد 704 گلدسته سیرت گئے۔ابھی پانچ منٹ نہیں گزرے تھے کہ بچے کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا اور سانس بحال ہونے لگی۔اس کے ساتھ بچے نے کسمسا کر آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔جب آپ سجدے سے اٹھے تو بچہ نئی زندگی پا چکا تھا۔سبحان الله یہ نظارہ دیکھ کر تو یوں احساس ہوا کہ خدا تعالیٰ آپ کی رگ جان سے بھی قریب تر ہے۔وہ کس طرح اپنے پیارے کی پکار سنتا اور کس طرح اپنی شان کے جلوے دکھاتا تھا۔0 وو مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں :- آپ نے اپنے گھر بیت العطاء (دار الرحمت وسطی ربوہ) کا بالائی کمرہ بیت الدعا“ بيت الدعا کے نام سے موسوم کیا ہوا تھا۔جب بھی کوئی اہم موقعہ ہوتا تو اس کمرہ میں تشریف نے جاتے اور دعاؤں میں مصروف ہو جاتے۔خاص دعائیں اور استخارے یہیں فرماتے۔اہم علمی کام بھی یہیں پر انجام دیتے۔خصوصی دعاؤں کے دنوں میں گھر والوں کو تاکید کرتے کہ مجھے زیادہ بلایا نہ جائے میں دعاؤں میں مصروف ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کی پر سوز دعائیں سنتا اور آپ کو رویائے صادقہ و کشوف والہامات کے ذریعہ اطلاع بھی دی جاتی۔0 مکرم حکیم حفیظ الرحمن سنوری صاحب کو حضرت مولانا کی زندگی کے آخری دس سال ۱۹۶۷ ء تا ۱۹۷۷ء حضرت مولانا کے دفتر تعلیم القرآن و وقف عارضی میں بطور معاون خاص کام کرنے کا موقع ملا۔نہایت نستعلیق بزرگ تھے۔آپ لکھتے ہیں :- باوجود اس کے کہ خود مستجاب الدعوات تھے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب پھر بھی دوستوں کو دعا کے لئے کہتے۔بعض دفعہ گھر پر دعوت صرف اس لئے کرتے کہ دوستوں کو دعا کی تحریک کی جائے۔ایک دفعہ آپ نے اپنے مکان کے اوپر چوبارہ بنوایا اور ہمیں یعنی اپنے دفتر کے لوگوں سے کہا کہ وہاں آئیں اور وہاں بیٹھ کر دعا کریں۔ہم نے عرض کیا کہ مولانا آپ کے سامنے ہماری کیا حیثیت ہے۔فرمانے لگے نہیں ایسا نہیں ہوتا۔کیا پتہ خدا تعالیٰ کس کی دعا قبول کر لے۔0 مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر لکھتے ہیں :- حضرت مولانا صاحب باوجود کامیاب مناظر فی البدیہہ بولنے والے اور قادر الکلام مقرر ہونے کے اپنی تقاریر کے وقت خود بھی دعا کرتے اور دوسروں کو بھی دعا کی تحریک کرتے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ خدام الاحمدیہ ضلع سیالکوٹ کی سالانہ تربیتی کلاس کبوتر انوالی مسجد سیالکوٹ میں ہو رہی تھی۔رات