حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 6 of 923

حیاتِ خالد — Page 6

حیات خالد 6 پیش لفظ المسيح اب یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔احباب جماعت کو اس کے لئے لمبا عرصہ انتظار کرنا پڑا۔اس کی بے حد معذرت کے ساتھ اب یہ کتاب آپ کی خدمت میں پیش ہے۔خدا کرے کہ یہ کاوش دیر آید درست آید کی مصداق ثابت ہو۔آمین ہماری بڑی بنی خوش بختی اور سعادت ہے کہ سید نا حضرت خلیفہ انبیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت اس عاجز کی درخواست پر حضرت ابا جان رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں اپنے ذاتی مشاہدات اور تاثرات پر مشتمل ایک دلکش تفصیلی مکتوب ارسال فرمایا ہے جو اس کتاب کی زینت ہے۔جزاھم اللہ احسن الجزاء اس کتاب کو آخری شکل دیتے وقت ابتداء میں یہ فکر رہا کہ کتاب بہت ضخیم بن رہی ہے لیکن جب حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے بعض ارشادات سامنے آئے تو یہ فکر یکسر دور ہو گیا۔آپ نے تحریر فرمایا ہے۔جب تک کسی شخص کے سوانح کا پورا نقشہ کھینچ کر نہ دکھلایا جائے تب تک چند سطریں جو اجمالی طور پر ہوں کچھ بھی فائدہ پبلک کو نہیں پہنچا سکتیں اور اُن کے لکھنے سے کوئی نتیجہ معتد بہ پیدا نہیں ہوتا۔سوانخ نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اُس زمانے کے لوگ یا آنے والی نسلیں اُن لوگوں کے واقعات زندگی پر غور کر کے کچھ نمونہ اُن کے اخلاق یا ہمت یا زہد و تقویٰ یا علم و معرفت یا تائید دین یا ہمدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لئے حاصل کریں۔ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھا دیں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہر دلعزیز اور مقبول انام بنانے کیلئے نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور اُن کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلا دیں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات کا قائم مقام ہو جائے تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دعا بھی کرے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه نمبر ۱۵۹ تا ۱۶۲ حاشیه ) الحمد للہ کہ نظر ثانی کے وقت ان ارشادات کے مطابق سب ضروری امور کو حتی الامکان کتاب میں شامل کرنے کی توفیق ملی۔خدا کرے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ٹھہرے اور ان مقاصد کو پورا کرنے والی ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ان ارشادات میں بیان فرمائے ہیں۔خدا کرے کہ اس کتاب کا پڑھنا حضرت ابا جان سے ملاقات کا قائم مقام ہو جائے اور وہ سب نیک مقاصد بھی احسن رنگ میں پورے ہوں جن کا ذکر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب کے آخر میں فرمایا ہے۔۲۰ فروری ۲۰۰۴ء خاکسار عطاء المجیب را شد امام مسجد فضل لندن - نزیل ربوہ