حیاتِ خالد — Page 677
حیات خالد 666 گلدستۂ سیرت ٹانگہ کر کے آتے جاتے تھے۔جو کوئی راستہ میں پیدل آتا جاتا ملتا خواہ بوڑھا ہو یا بچہ ہو ، ان کو ٹانگے میں سوار کراتے جاتے تھے۔اور ٹانگے والے کو زائد پیسے دے دیتے تھے۔بعض دفعہ دور سے ٹانگہ آتے دیکھ کر لوگ بیٹھنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے کہ یہ مولوی صاحب کا ٹانگہ ہے وہ ضرور بٹھا لیں گے۔قادیان کا واقعہ ہے کہ اپنے بیٹے کو اور اپنے بھائی کو سکول میں داخل کرانے گئے تو ماسٹر صاحب نے کہا کہ آپ کو بچے کی فیس تو دینی پڑے گی اور بھائی کی معاف ہوگی کیونکہ اس کے والد زندہ نہیں ہیں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ میں اس کا سر پرست ہوں میں اس کی بھی فیس دوں گا۔یہ فرق میں برداشت نہیں کرسکتا۔بھائی اور بیٹے میں فرق برداشت نہیں کیا۔اسی طرح سکول میں بچیاں اور بہنیں اکٹھی پڑھتی تھیں مگر کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ بہنیں کون سی ہیں اور بیٹیاں کون سی ہیں۔کچھ سال ہوئے کہ ایک پرانی استانی صاحبہ نے پوچھا کہ مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مولوی صاحب کی بہنیں کونسی ہیں اور بیٹیاں کونسی ہیں۔میں بہت حیران ہوئی۔میں نے کہا کہ اتنے سال آپ کے پاس پڑھتی رہی ہیں اور آپ کو علم نہیں ہو سکا چنانچہ میں نے پھر ان کو بتایا۔آپ بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں سے پیار کرتے تھے۔کسی بیٹی یا بہن کو نہ مارا نہ جھڑ کا۔آپ نے ایک کتاب مقامات النساء لکھی تھی جو سکول کے نصاب میں شامل کی گئی تھی۔اس پر میرے ایک بیٹے نے کہا کہ ابا جان ! عورتوں کے حقوق کے بارہ میں تو آپ نے مقامات النساء لکھی ہے۔اب ایک کتاب مقامات الرجال بھی تو لکھیں تا کہ عورتوں کو بھی معلوم ہو کہ مردوں کے کیا حقوق ہیں۔اس پر آپ نے کہا کہ لکھوں گا۔مگر اس کا موقعہ نہ مل سکا ور نہ وہ ضرور لکھتے۔ایک نہایت نمایاں خوبی ان کی خدا کی رضا پر راضی رہنا تھا۔کوئی وفات بھی ہو جاتی تو نہایت صبر سے برداشت کرتے اور خدا کی رضا کو مقدم رکھتے۔آپ نے اپنی نہایت پیاری بیٹی امتہ اللہ خورشید کی وفات پر بھی بڑا اعلیٰ نمونہ صبر کا دکھایا اور اپنی والدہ کی وفات جب ہوئی جن سے ان کو بہت ہی پیا تھا، بڑا ہی صبر دکھایا۔میری ایک نواسی پانچ ہفتہ کی تھی۔وہ جب فوت ہوئی اس وقت اس کا خاوند بطور مبلغ باہر گیا ہوا تھا۔آپ نے اپنی بیٹی کو کہا کہ تم میری بیٹی ہو صبر کرنا چنانچہ میری بیٹی نے بہت ہی صبر کا نمونہ دکھایا۔اب خدا کے فضل سے اس کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ابھی ہمیں تقسیم ملک کے بعد احمد نگر آئے چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ میری اڑھائی سال کی بیٹی بیمار ہو گئی۔اچانک بخار ہو گیا اور پھر بخار تیز ہی ہوتا گیا جس میں سرسام اور تور کی اور فالج بھی ہو گیا۔اور وہ اس طرح چودہ روز بیمار رہی ، نہ وہ بول سکتی