حیاتِ خالد — Page 670
حیات خالد 657 آخری ایام نے لندن سے لکھا کہ اس عظیم صدمہ میں خدا کی رضا پر راضی ہوں۔آپ ہماری بڑی با حوصلہ ماں ہیں کہ اپنے آٹھ میں سے چھ بچوں کو پردیس بھجوا کر ان کے لئے دعاؤں میں مصروف ہیں۔ابا جان سے گذشتہ ملاقات پر بھلا کسے پتہ تھا کہ یہ آخری ملاقات ہوگی۔0 حضرت مولانا کے داماد مکرم افتخار احمد صاحب ایاز سابق امیر جماعتہائے احمد یہ برطانیہ نے لندن سے اپنی خوش دامن محترمہ کو تحریر کیا کہ اپنے والد ماجد ( مکرم مختار احمد صاحب ایاز ) کی وفات کے بعد مجھے حضرت ابا جان ( مولانا ابوالعطاء صاحب) کا بہت سہارا تھا۔آپ بہت محبت اور دعائیں کرنے والے بزرگ تھے۔اب میں آپ کی دعاؤں سے محروم ہو گیا ہوں جس کا مجھے بے حد دکھ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارا سہارا ہو اور ہمارے دلوں کو تسکین عطا فرمائے۔آمین 0 حضرت مولانا کے صاحبزادہ مکرم عطاء الرحیم صاحب حامد نے فری ٹاؤن، سیرالیون سے اپنی والدہ ماجدہ کو لکھا کہ اتنے پیارے اور شفیق باپ کی رحلت کی خبر نے ہمیں تو ہلا کر رکھ دیا۔آپ کے محبت بھرے خطوط پڑھتے ہیں تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔اب ہم اس شفیق باپ کو کہاں ڈھونڈ میں جو میری نادانیوں اور کوتاہیوں کے باوجود مجھ سے ہمیشہ بے حد محبت اور شفقت کرتا رہا۔جو ہر روز ہمارے لئے تجد میں اٹھ کر ایک ایک کو یاد کر کے متضرعانہ دعا ئیں کیا کرتا تھا؟ ایک دوسرے خط میں آپ نے لکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ان کے نام تار میں حضرت مولانا کو بہادر خالد (Valiant Khalid) کے لقب سے یاد فرمایا۔اپنے ایک اور خط میں مکرم عطاء الرحیم صاحب حامد نے اس وقت سیرالیون کے امیر و مبلغ انچارج جناب مولانا نسیم سیفی کے متعلق تحریر کیا کہ محترم سیفی صاحب سے ان کی اور ان کے برادر اکبر مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد کی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔محترم سیفی صاحب شدت غم سے بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے اور ہماری حالت بھی غیر ہوتی رہی۔محترم سیفی صاحب نے فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب ہی ان کے دوست، ساتھی اور بزرگ تھے جن 0 سے وہ ہر قسم کی بات کر لیا کرتے تھے اور یہ کہ آپ کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔حضرت مولانا کے صاحبزادہ مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد سابق امیر و مبلغ انچارج لائبیریا نے اپنی والدہ ماجدہ کو لکھا کہ آج صبح مجھے اپنی زندگی کی المناک ترین خبر ملی کہ میرے نہایت پیارے اور مشفق ابا جان ہم سب کو داغ مفارقت دے کر اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے۔افسوس ! اب ہم وہ پیارا اور محسن چہرہ اس دنیا میں نہ دیکھ سکیں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔آمین۔اس